مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 435 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 435

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 435 امام مہدی پر ایمان واجب کرنے والے کو بھی اہل فارس میں سے بتایا گیا ہے۔دوسرا قرینہ اس موعود شخص کی تعین کیلئے اس حدیث میں يُمَكِّنُ کے الفاظ ہیں یعنی وہ شخص دین محمد کی مضبوطی کے سامان کرے گا۔یہی الفاظ قرآن شریف کی آیت استخلاف میں خلفاء اسلام کی علامت کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔فرمایا: وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمُ (النور: (56) که الله تعالیٰ ان خلفاء کے ذریعہ ان کے دین کو مضبوطی بخشے گا۔پس اس حدیث میں امت میں آنے والے مسیح و مہدی کا علاقہ اور کام بیان فرما کر اس کی تائید و نصرت واجب قرار دی گئی ہے۔تیسرے اسی آیت استخلاف کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس خلیفہ برحق کا جو انکار کرے وہ فاسق ہوگا۔یہ حدیث بھی اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ اس شخص موعود کی مدد کرنا واجب اور قبول کرنا لازم ہے۔حضرت ملا علی قاری نے بھی اس حدیث کی تشریح میں یہ نہایت اہم نکتہ اٹھایا ہے کہ حدیث کے الفاظ ہر مؤمن کے لئے اس کی مدد کرنا یا اسے قبول کرنا واجب ہوگا“ سے کوئی عام شخص مراد نہیں لیا جاسکتا بلکہ یہ قرینہ اس شخص کے امام مہدی ہونے پر دلالت کرتا ہے۔" 151 ( مرقاۃ المفاتیح اردو جلد دہم صفحہ 174 مترجم مولانامحمد ندیم مکتبہ رحمانیہ لا ہور ) یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آج تک سمرقند کے کسی معزز زمیندار نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔صرف حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ہی وہ مدعی مسیح و مہدی ہیں جن کا وطن سمرقند تھا۔آپ کے آباء شہنشاہ بابر کے زمانہ میں وہاں سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور پنجاب میں کئی دیہات بطور جاگیر آپ کے خاندان کو ملے تھے۔اس لحاظ سے آپ کا خاندان ایک معزز زمیندار خاندان تھا۔حضرت مرزا صاحب کی یہ وہ ذاتی و خاندانی علامت تھی جو اس حدیث میں’حارث‘“ کے الفاظ میں بیان ہوئی۔پس حارث بھی دراصل مہدی کا صفاتی نام ہے۔اس لفظ میں معنوی لحاظ سے یہ روحانی اشارہ بھی تھا کہ وہ ” حارث ایمانی چشمہ کے ذریعہ قوم کے پودوں کی آبیاری کرے گا اور ان کے مرجھائے ہوئے دل تازہ کرے گا۔(ازالہ اوہام صفحہ 106 روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 153 حاشیہ ایڈیشن 2008) حارث کے روحانی لشکر کے سردار کے لقب "منصور" سے مراد حضرت مرزا صاحب کے خلفاء میں سے کوئی ایک خاص تائید یافتہ خلیفہ بھی ہو سکتا ہے۔عمومی طور پر اس میں آپ کے ہر خلیفہ کے خدا سے تائید یافتہ ہونے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے جیسا کہ آیت استخلاف میں تمام خلفاء سے تمکنت کے وعدہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور یہ بات حقائق و واقعات کے بھی عین مطابق ہے۔