مسیح اور مہدیؑ — Page 433
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 433 عکس حوالہ نمبر : 149 امام مہدی کے لئے چاند اور سورج کی آسمانی گواہی کبھی ہماری امام محمد بات علیات سلام سے طاقات ہوئی تو آپ نے میت شریح علیہا اور لباس میں کچھ نہ کہ عنایت فرمایا اور پربھی ارشاد ہو کہ تمہارے کہنے سے پہلے ہی ہم نے یہ تمہارے لیے رکھ چھوڑا تھا۔الان شاد ۲۱) مناسبه ابن شہر آشوب جلد ۳ صفحه ۲۲۷ میں بھی عمرو اور عبید اللہ سے اسی طرح مروی ہے۔کتاب الارشاد میں سلیمان بن ترم سے منقول ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام میں پانچ چھ سو سے ہزار اور ہم تک عطافرمایا امید رنجیدہ و ملول نہیں ہوئے۔(الارشاد ) کی روایت مناقب ابن شہر آشوب دعبلہ ہم صفحہ ۳۳۷) میں ہزار درہم کے الفاظ یک یہ زر رکھنے والوں کو عطا کرنے جانے اور کسی وقت بھی اپنے بھائیوں عرض مندوں اور اپنی ذات سے بیان کی گئی ہے۔کتاب الارشاد میں امام محمد باتر علی التیام سے منقول ہے کہ آپ سے آپ کی مدت مرسل بلا حوالہ سند کے بلوے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب میں کوئی حدیث بیان کرتا ہوں اور اس کی سند کو بیان نہیں کرتا تو اس کی سند اسی طرح ہوتی ہے کہ مجھ سے میرے پیر بند گوار نے بیان کیا اور ان سے میرے عہد نامدار امام حسین علی اے حکام نے اور ان سے ان کے جد امجد بجناب رسالتمآب صلی اللہ نے فرمایا اور آپ سے جبرئیل امین نے بیان کیا اور ان سے خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا۔حضرت امام نے فرمایا کہ ہم پر لوگوں کا معاملہ بڑی مصیبت ہے کہ ہم انہیں حق کی طرف بلاتے ہیں تو وہ جواب نہیں دیتے اور ہماری آواز پر لبیک نہیں کہتے اگرہم انہیں چھوڑ دیں تو ہمارے علاوہ کسی دوسرے سے ہدایت نہیں پاسکتے آپ نے ارشاد فرمایا کہ وگ ہم سے کیوں بجتے ہیں اور ہم میں کیوں عیب نکالتے ہیں ہم اہل بیت رحمت میں شجر نبوت اور علم دست کی کمان اور معدن ہیں ہم وہ جگہ ہیں جہاں رشتوں کا نزر دل ہوا اور وحی اتری۔الارشاد ص۳۸۳) امام وارث علوم انبیا رہیں مناقب ابن شہر آشوب میں مسند ابو حنیفہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ روای کہتا ہے جب بھی میں نے کسی مسئلہ میں جابر جعلی سے کچھ دریافت کیا تو انہوں نے اس کے بارے میں حدیث پیش کی اور جب وہ امام محمد باقر علیہ السلام کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو یوں کہتے تھے کہ مجھے سے وسی الاوصیاء اور وارث علوم انبیاء نے بیریان فرمایا ہے۔ابو نعیم نے میتہ الاولیا میں امام محمد باقر عیداست نام کی شان میں اس طرح کے الفاظ کہے می کرده امام حافر ذاکر خاش صابر حضرت ابو سعد محمدبن علی باقر علی است دوم ہیں۔حلیة الاولیا بعد مستقل)