مسیح اور مہدیؑ

by Other Authors

Page 181 of 708

مسیح اور مہدیؑ — Page 181

مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 181 موعود امام - اُمت محمدیہ کا ایک فرد اس حدیث میں ابن مریم کے لئے نزول کا لفظ آیا ہے۔اس سے لوگوں نے بہت دھوکا کھایا اور یہ قیاس کرلیا کہ صعود نزول کی فرع ہے اور یہ کہ اسرائیلی مسیح عیسی بن مریم ظاہری جسم سمیت آسمان سے اتریں گے۔حالانکہ قرآن شریف میں لباس، لو ہے اور جانوروں کے لئے بھی نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔(الاعراف: 27، الحدید : 26، الزمر: 7) مگر کوئی عظمند بھی ان چیزوں کے ظاہری طور پر آسمان سے اترنے کا مفہوم مراد نہیں لیتا، کیونکہ عربی محاورہ کے مطابق یہاں غیر معمولی شان و عظمت کی حامل چیزوں کے ظہور کے لئے نزول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔حتی کہ قرآن شریف میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجسم ذکر اور رسول بنا کر نازل کرنے کا ذکر بھی ہے۔فرمایا: قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمُ ذِكْراً رَّسُولًا (الطلاق:11) مگر کوئی بھی مسلمان صعود کو نزول کی فرع قرار دے کر رسول اللہ کے آسمان سے اترنے کا عقیدہ نہیں رکھتا۔پس مسیح ابن مریم کے نزول سے مراد بھی ابن مریم کے مثیل اور ان کی صفات کے حامل شخص کا ظہور ہے۔قرآن شریف میں آل عمران : 56 میں حضرت عیسی کی طبعی موت کے بعد رفع کا وعدہ دے کر اور سورۃ المائدہ: 118 میں اس وعدہ کے پورا ہونے کا ذکر کر کے وفات عیسی پر مہر ثبت کر دی اور ئیس : 32 میں یہ واضح فرما دیا کہ فوت شدہ کبھی واپس نہیں آیا کرتے۔آیات کی روشنی میں حدیث نبوی میں حضرت عیسی کے ظہور کی پیشگوئی سے مراد مثیل عیسی کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسی کو زندہ ماننے والے مسلمان علماء کس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کو ان کے ظاہری نزول کی ایک شاخ قرار دیتے ہیں۔جبکہ قرآن وحدیث سے حضرت عیسی کی طبعی موت اور روحانی رفع ثابت ہے۔جس کے بعد نزول مسیح وہی استعارہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے لئے قرآن کریم میں استعمال ہوا۔چنانچہ مشہور صوفی بزرگ علامہ ابن عربی نے بھی یہی لکھا ہے کہ حضرت عیسی" کے رفع سے مراد ان کی روح کا عالم بالا میں بلند مقام حاصل کرنا ہے اور آخری زمانہ میں ان کے نزول سے مرادان کا ایک دوسرے جسم کے ساتھ تشریف لانا ہے۔( تفسیر ابن عربی جلد اول صفحہ 165۔کتاب ہذا صفحہ 30 حوالہ نمبر 6) اور یہ کوئی نیا عقیدہ نہیں جیسا کہ آٹھویں صدی کے ایک اور بزرگ علامہ سراج الدین ابن الوردی لکھتے ہیں: