مسیح اور مہدیؑ — Page 137
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 137 عیسیٰ اور مہدی۔ایک ہی وجود کے دو لقب در اصل وہ مسیح ہے جسے آل محمد میں سے مسیحوں کا مسیحا کہنا چاہئے ابن خلدون کہتے ہیں بعض صوفیاء نے لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِیسی کی حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ کوئی مہدی نہیں سوائے اس مہدی کے جس کی نسبت شریعت محمدیہ کی پیروی اور اسے منسوخ نہ کرنے کے لحاظ سے ویسی ہی ہوگی جیسے عیسی کی نسبت شریعت موسویہ سے تھی۔“ ( مقدمه ابن خلدون صفحه 407 دار الفكر النشر والتوزيع ) حضرت علامہ ابن عربی نے بھی یہ حدیث قبول کرتے ہوئے نزول عیسی کے وقت مہدی یا کسی امتی کے نماز میں امامت کروانے کی یہ تاویل کی ہے کہ دراصل عیسی خود مہدی ہو کر شریعت اسلامیہ کی اتباع کریں گے۔نیز مسیح کو مہدی کے نماز میں امامت کروانے سے مراد کوئی دوسرا شخص نہیں بلکہ مہدی کے نماز پڑھانے میں یہ اشارہ ہے کہ مقام مہدویت مقام عیسویت سے افضل ( تفسیر ابن عربی جلد دوم صفحہ 219 مطبوعہ 1238ھ مصر ) اس زمانہ کے صوفی بزرگ علامہ شیخ محمد اکرم صابری لکھتے ہیں : 49 و بعض لوگوں کا یہ مسلک ہے کہ عیسیٰ کی روح مہدی میں بروز کرے گی جس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ عیسی کے سوا کوئی مہدی نہیں۔“ 50/ ( اقتباس الانوار صفحہ 52 مطبع اسلامیہ لاہور (2) مشہور شیعہ مفسر علامہ طبرسی نے بھی انہی معنی کی تائید میں لکھا ہے کہ روح عیسی مہدی میں بروز کرے گی جو حدیث لَا مَهْدِيَّ إِلَّا عِیسَی کے مطابق ہے۔النجم الثاقب في احوال الامام الحجة الغائب الجزء الاول صفحہ 348 مطبع قم المقدسة ) 51 پس جماعت احمدیہ کا یہ مسلک ) کہ عیسی اور مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں ) کوئی نئی اختراع نہیں بلکہ اسے قرآن وحدیث اور علماء کرام و صوفیائے عظام کی مکمل تائید حاصل ہے اور یہی دعویٰ حضرت بانی جماعت احمدیہ کا ہے۔اس ساری بحث کا منطقی نتیجہ ایک اور صوفی بزرگ خلیفہ پیر عبدالقیوم نقشبندی کے نزدیک یہ ہے کہ : امام مہدی کے بارہ میں احادیث میں بہت اختلاف ہے اس وجہ سے امام بخاری اور مسلم نے مہدی کے بارہ میں کوئی روایت صحیح نہ سمجھ کر قبول نہیں