مسیح اور مہدیؑ — Page 136
مسیح اور مہدی حضرت محمد رسول اللہ کی نظر میں 136 عیسیٰ اور مہدی۔ایک ہی وجود کے دو لقب اس حدیث میں بھی آنیوالے عیسی کو مہدی فرمایا۔دوسری روایت میں ہے کہ عیسی بن مریم امام مہدی بن کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مصدق بن کر تشریف لائیں گے۔مجمع الزوائد جلد 7 صفحہ 647 دار الفکر بیروت) 46 علامہ ابن تیمیہ نے گزشتہ علماء امت میں سے ابو محمد بن الولید البغدادی کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حديث لَا الْمَهْدِيُّ إِلَّا عِیسی پر اعتماد کرتے ہوئے الگ مہدی کے وجود سے انکار کیا گویا ان کے نزدیک امت میں صرف ایک ہی مسیح موعود کے مہدی بن کر آنے کی خبر دی گئی۔( منہاج السنتہ النبویہ جلد 8 صفحہ 256 مؤسسه قرطبہ 1986ء) اگر چہ علامہ بغدادی کی اس رائے کو کمزور قرار دیا گیا ہے، لیکن غور کیا جائے تو فی الواقعہ اسکے مقابل دوسرا نظریہ اپنے اندر زیادہ معقولیت نہیں رکھتا کہ مسیح اور مہدی دو الگ الگ وجود ہیں اور دونوں ایک ہی مقصد یعنی غلبہ اسلام کے لئے ایک ہی زمانہ میں آئیں گے۔کیونکہ یہ تحصیل حاصل اور بے مقصد بات ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ فرماتے ہیں: دراصل یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم ہوتا ہے کہ باوجود یکہ ایک ایسی شان کا آدمی ہو کہ جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہیئے دنیا میں ظہور کرے اور پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ضروری ہو۔کیا وہ خود مہدی نہیں ہے؟ کیا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا ؟ کیا اُس کے پاس اس قدر جواہرات وخزائن و اموال معارف و دقائق نہیں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اس قدر اُن کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 ص 378 حاشیہ ایڈیشن 2008) الغرض چودہ سو سال بعد اس پیشگوئی نے ایک ہی وجود حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے حق میں پورے ہو کر حدیث کا یہ مفہوم عملاً ثابت کر دیا کہ مسیح و مہدی ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔علامه ابن خلدون نے بھی امت میں اس مسلک کے ایک گروہ کا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں : ابن ابی واطیل نے کہا ہے کہ ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ مہدی ہی