مشاغل تجارت اور حضرت خدیجہ ؓ سے شادی — Page 19
۱۹ حضرت عبد اللہ اور حضرت آمنہ کا در تیم اللہ تعالیٰ کے فضل واحسان سے صورت و سیرت میں بے مثال جوان بن کے دولہا بنا۔شادی ہوئی تو ابو طالب کے مکان سے حضرت خدیجہ کے مکان میں منتقل ہو گئے۔اس زمانے میں مٹی گارے یا پتھروں سے مکان بننے تھے جن کا صحن حاجیوں کی سہولت کے لئے بہت وسیع رکھا جاتا۔مکان میں دروازہ لگانے کا رواج نہ تھا۔بلکہ ٹاٹ وغیرہ کا قديم پردہ لگالیا جاتا۔حضرت خدیجہ کا مکان درب المحجر میں واقع تھا شادی کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ حضرت خدیجہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں ایک تجویز پیش کرنا چاہتی ہوں اگر آپ اجازت دیں تو پیش کروں۔آپؐ نے فرمایا وہ کیا تجویز ہے حضرت خدیجہ نے کہا میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اپنی ساری دولت اور اپنے سارے غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دوں اور یہ سب آپ کا مال ہو جائے۔آپ قبول فرما لیں تو میری بڑی خوش قسمتی ہو گی۔آپ نے جب یہ تجویز سنی تو آپ نے فرمایا :- خدیجہ کیا تم نے سوچ سمجھ لیا ہے ؟ اگر تم سارا مال مجھے دے دوگی تو مال میرا ہو جائے گا تمہارا نہیں رہ حضرت خدیجہ نے عرض کیا۔گا۔" : میں نے سوچ کر ہی یہ بات کی ہے اور میں نے سمجھ لیا ہے کہ آرام سے زندگی گذارنے کا بہترین ذریعہ ہی ہے۔آپ نے فرمایا