مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 676 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 676

676 بوجھ اٹھایا۔یہ وہ خدمت نہیں جس کا خدام الاحمدیہ کے نظام کے ماتحت تم سے تقاضا کیا جاتا ہے بلکہ یہ وہ خدمت ہے جس کا بجالانا ہر انسان کے لئے اس کی انسانیت کے لحاظ سے ضروری ہے۔فرد کی مختلف حیثیتیں در حقیقت مختلف خدمات مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے ہوتی ہیں۔مثلاً جو شخص پاکستان میں رہتا ہے اس پر کچھ فرائض پاکستانی ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔کچھ فرائض ایک انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو کچھ فرائض اس پر سرکاری ملازم ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کچھ فرض اس پر ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی پولیس مین ہے تو کچھ فرض اس پر پولیس مین ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔ایک حیثیت کے کام کو اپنی دوسر کی حیثیت کے ثبوت میں پیش کرنا محض تمسخر ہوتا ہے۔مثلاً ایک ڈاکٹر کا یہ لکھنا کہ میں نے بیس مریضوں کا علاج کیا، تمسخر ہے کیونکہ اس نے جو کام کیا ہے اپنے ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے کیا ہے، خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونے کی حیثیت سے نہیں کیا۔پاپاکستان کی تائید میں اگر کوئی جلسہ ہوتا ہے یا جلوس نکلتا ہے اور تم اس میں حصہ لیتے ہو تو پھر اپنی رپورٹ میں اس کا ذکر ہو تو یہ تمسخر ہے کیونکہ یہ خدمت تم نے ایک پاکستانی ہونے کے لحاظ سے کی ہے۔برکت تب شامل حال ہوتی ہے جب ساری حیثیتوں کو نمایاں کر کے کام کیا جائے۔برکت تمہیں تبھی حاصل ہو گی جب تم اپنی ساری حیثیتوں کو نمایاں کر کے کام کرو گے۔جب تمہیں ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم پاکستانی حیثیت کو نمایاں کرو۔جب تمہیں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے کام کرنا پڑے تو تم اپنی انسانیت کو نمایاں کرو۔مثلاً اگر کوئی چلتے ہوئے گر جاتا ہے تو یہ انسانیت کا حق ہے کہ اسے اٹھایا جائے۔اس میں خدام کا کیا سوال ہے۔ایک ہندوستانی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ایک پنجابی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ایک چینی اور جاپانی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ایک سرحدی پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے پس اگر اتفاقی طور پر کوئی شخص ایسا کام کرتا ہے تو یہ خدام الاحمدیہ والی خدمت خلق نہیں کہلا سکتی بلکہ یہ وہ خدمت ہو گی جو ہر انسان پر انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتی ہے۔اگر وہ ان فرائض کو ادا نہیں کرتا تو وہ انسانیت سے بھی گر جاتا ہے۔پس اپنے پروگراموں پر ایسے رنگ میں عمل کرو جیسے اس دفعہ لاہور کے خدام نے خصوصیت سے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔اسی طرح ربوہ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے۔سیالکوٹ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ملتان کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے اور کراچی کے خدام نے بھی بعض اچھے کام کئے ہیں گو وہ نمایاں نظر آنے والے نہیں۔پس متواتر اپنے جلسوں اور جلوسوں میں اس امر کو لاؤ کہ تم نے زیادہ سے زیادہ خدمت خلق کرنی