مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 675
675 کریں۔آخر میں تو انا کام نہیں کر سکتا۔میں اگر صدر بنا ہوں تو اس لئے کہ تم میں یہ جوش اور امنگ قائم رہے کہ تمہارا خلیفہ صدر ہے ورنہ کام سارا ماتحتوں نے کرنا ہے اور انہیں کو کرنا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو سہارے کا حق دار ہے وہ سہارا نہ لے۔اگر کوئی کمزور یا بیمار ہو تو وہ لاٹھی کا سہارا لے سکتا ہے بلکہ اگر زیادہ تکلیف ہو تو وہ بیٹھ بھی سکتا ہے۔جو طاقتور ہیں وہ سارے کے سارے ایک شکل میں کھڑے ہوں۔اگر یہ مقرر ہو کہ ہاتھ کھول دیں تو سب ہاتھ کھول دیں اور اگر یہ مقرر ہو کہ ہاتھ باندھ لیں تو سب کا فرض ہے کہ ہاتھ باندھ لیں۔اگر کوئی بیمار یا کمزور ہے تو بے شک بیٹھ جائے۔اگر نماز بیٹھ کر پڑھنی جائز ہے اور اس سے صف میں کوئی خلل نہیں آسکتا تو خدام کے اجتماع میں بھی اس سے کوئی نقص واقع نہیں ہو سکتا۔صرف اس بجھتی سے یہ پتہ لگ جائے گا کہ خدام میں کوئی نظام موجود ہے۔اب موجودہ حالت میں کچھ پتہ نہیں لگتا۔کوئی ہاتھ باندھے کھڑا ہے اور کوئی ہاتھ لٹکائے۔اگر سب ایک طرح کھڑے ہوں تو خواہ بیمار اور کمزور بیٹھے ہوئے ہوں تب بھی دیکھنے والا یہ نہیں سمجھے گا کہ ان کا نظام خراب ہے بلکہ وہ ان کے بیٹھنے کو معذوری پر محمول کرے گا۔میں سمجھتا ہوں اگر کوئی فیصلہ ہو جائے تو بیٹھنے والا وہی شکل اختیار کر سکتا ہے مثلاً اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ ہاتھ لٹکانے ہیں تو وہ بھی ہاتھ لٹکا کر بیٹھ سکتا ہے۔اگر ہاتھ پیچھے کرنے کا فیصلہ ہو جائے گو یہ نا معقول بات ہے تو بیٹھنے والا بھی ایسا کر سکتا ہے۔پس اپنا ایک نظام مقرر کرو اور اس جلسہ میں اس کا فیصلہ کرو اور سب کو سکھاؤ کہ جب بھی تم نے کھڑا ہونا ہو اس شکل میں کھڑے ہو اور پھر نوجوانوں کو آزادی دو اور انہیں بتا دو کہ اگر تم میں سے بعض کھڑے نہیں ہو سکتے تو وہ بیٹھ سکتے ہیں۔اگر نماز میں بیٹھنے کی اجازت ہے تو خدام کا جلسہ نماز سے زیادہ اہم نہیں کہ اس میں بیٹھا نہیں جاسکتا۔اگر کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اسے آرام آجائے تو وہ دوبارہ کھڑا ہو جائے اور اگر کھڑا ہونے والا تکلیف محسوس کرے تو وہ بیٹھ جائے۔اس طرح بیٹھنے والے دیکھنے والوں پر یہ اثر نہیں ڈالیں گے کہ ان کا کوئی نظام نہیں بلکہ صرف یہ اثر پیدا ہو گا کہ وہ بیمار اور کمزور ہیں۔خدمت خلق کے کام کی اہمیت اس کے بعد میں خدام الاحمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ س دفعہ خدام نے طوفانوں وغیرہ کے موقعہ پر نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کیا ہے۔اب انہیں اپنے اجلاس میں اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ اس جذبہ کو جو نہایت مبارک جذبہ ہے اور زیادہ کس طرح ابھار اجائے۔کوئی ایسی خدمت جو صرف رسمی طور پر کی جائے حقیقی خدمت نہیں کہلا سکتی۔مثلا بعض لوگ اپنی رپورٹوں میں لکھ دیتے ہیں کہ ہم نے کسی کا بوجھ اٹھایا۔اب اگر تو کسی مجلس کے تمام نوجوانوں یا بارہ پندرہ خدام سارا دن لوگوں کے بوجھ اٹھاتے پھرتے ہیں یا کسی ایک وقت مثلاً عصر کے بعد روزانہ ایسا کرتے ہوں یا گھنٹہ دو گھنٹہ ہر روز اس کام پر خرچ کرتے ہوں تب تو یہ رمت کہلا سکتی ہے لیکن اس قسم کی رپورٹوں کو میں کبھی نہیں سمجھا کہ اس مہینہ میں ہمارے نوجوانوں نے کسی کا