مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 677

677 ہے اور ایک پروگرام کے ماتحت کرنی ہے تاکہ ہر شخص کو تمہاری خدمت محسوس ہو۔تم میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ دکھاوا ہے۔تم میں سے کوئی کہ سکتا ہے کہ یہ نمائش ہے مگر کبھی کبھی نمائش بھی کرنی پڑتی ہے۔اگر تمہارے دل کی خوبی اور نیکی کا اقرار دنیا نہیں کرتی تو تم مجبور ہو کہ تم لوگوں کو دکھا کر کام کرو۔تم نے بہت نیکی کی ہے لیکن دنیا نے تمہاری نیکی کا کبھی اقرار نہیں کیا۔ہر ر مشکل میں ہم مسلمانوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں۔پہلے بھی لوگوں کی مصیبت کے وقت ہم کام کرتے رہے ہیں مگر مخالف یہی کہتا چلا گیا کہ احمدی احمدی کا ہی کام کرتا ہے، کسی دوسرے کا نہیں کرتا۔یہ بالکل جھوٹ تھا جو مخالف بو لتا تھا۔ہم خدمت خلق کا کام کرتے تھے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے خدا کے لئے کیا ہے۔ہمیں اس کے اظہار کی کیا ضرورت ہے۔مگر جب تمہاری اس نیکی کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا اور تم پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ تم اپنی قوم کی خدمت کے لئے تیار نہیں تو پھر وہی نیکی بدی بن جائے گی اگر ہم اس کو چھپائیں۔پس اس نیکی کا ہم علی الاعلان اظہار کریں گے۔اس لئے نہیں کہ ہم بدلہ لیں بلکہ اس لئے کہ وہ کذاب اور مفتری جو ہم پر الزام لگاتے ہیں، ان کا منہ بند ہو۔پس مجرم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے ضروری تھا کہ ہم اپنے کاموں کا اظہار کرتے ورنہ پہلے بھی ہمارے آدمی ہر مصیبت میں مسلمانوں کا ساتھ دیتے رہے ہیں اور ہر مشکل میں ہم نے ان کی مدد کی ہے۔یہ کوئی نیا کام نہیں جو ہم نے شروع کیا ہو۔جب ہم قادیان میں تھے تو اس وقت بھی ہم خدمت خلق کرتے تھے - ۱۹۱۸ء میں جب انفلوانزا پھیلا ہے تو مجھے خلیفہ ہوئے ابھی چار سال ہی ہوئے تھے اور جماعت بہت تھوڑی تھی مگر اس وقت ہم نے قادیان کے اردگرد سات سات میل کے حلقہ میں ہر گھر تک اپنے آدمی بھیجے اور دوائیاں پہنچائیں اور تمام علاقہ کے لوگوں نے تسلیم کیا کہ اس موقعہ پر نہ گورنمنٹ نے ان کی خبر لی اور نہ ان کے ہم قوموں نے ان کی خدمت کی ہے۔اگر خدمت کی ہے تو صرف جماعت احمدیہ نے۔میں نے اس وقت طبیبوں کو بھی بلوایا اور ڈاکٹروں کو بھی بلوایا۔دنیا میں عام طور پر ڈاکٹر بلو او تو طبیب اٹھ کر چلا جاتا ہے اور اگر طبیب بلو اؤ تو ڈاکٹر اٹھ کر چلا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ بات نہیں اور پھر اخلاص کی وجہ سے ہمارا ان پر رعب بھی ہوتا ہے۔غرض میں نے ڈاکٹر بھی بلوائے حکیم بھی بلوائے اور ہو میو پیتھ بھی بلوائے۔اس وقت مرض نئی نئی پیدا ہوئی تھی۔ڈاکٹروں نے کہا کہ ہم اس مرض کا علاج تو کریں گے مگر ابھی ہماری طب میں اس کی تشخیص نہیں ہوئی اور لٹریچر بہت ناقص ہے۔اطباء کے اصول علاج چونکہ کلیات پر مبنی ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیمی بخار ہے اور ہم اس کا علاج کریں گے۔میں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ جھوٹ بولیں یا سچ بولیں۔غلط کہیں یا درست کہیں بہر حال یہ کہتے ہیں کہ ہماری طب میں اس کا علاج موجود ہے اس