مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 665
665 سلطنت مسلمانوں نے یہ تباہی خود اپنے ہاتھوں مول لی تھی۔ماربڈ (Morbid) کے لحاظ سے یہ تباہی اس لئے واقع ہوئی کہ جو ترقیات انہیں ملیں وہ اسلام کی خاطر ملی تھیں، رسول کریم ﷺ کی بدولت ملی تھیں، ان کی ذاتی کمائی نہیں تھی۔الله رسول کریم ہے کہ میں پیدا ہوئے اور مکہ والوں کی ایسی حالت تھی کہ لوگوں میں انہیں کوئی عزت حاصل نہیں تھی۔لوگ صرف مجاور سمجھ کر ادب کیا کرتے تھے اور جب وہ غیر قوموں میں جاتے تھے تو وہ بھی ان کی مجاور یا زیادہ سے زیادہ تاجر سمجھ کر عزت کرتی تھیں۔وہ انہیں کوئی حکومت قرار نہیں دیتی تھیں اور پھر ان کی حیثیت اتنی کم سمجھی جاتی تھی کہ دوسری حکومتیں ان سے جبرا ٹیکس وصول کرنا جائز سمجھتی تھیں جیسے یمن کے بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا جس کا قرآن کریم نے اصحاب الفیل کے نام سے ذکر کیا ہے۔رسول کریم عمل پیدا ہوئے تو تیرہ سال تک آپ مکہ میں رہے۔اس عرصہ میں چند سو آدمی آپ پر ایمان لائے۔تیرہ سال کے بعد آپ نے ہجرت کی اور ہجرت کے آٹھویں سال سارا عرب ایک نظام کے ماتحت آگیا اور اس کے بعد اسے ایک ایسی طاقت اور قوت حاصل ہو گئی کہ اس سے بڑی بڑی حکومتیں ڈرنے لگیں۔اس وقت دنیا حکومت کے لحاظ سے دو بڑے حصوں میں منقسم تھی۔اوّل رومی دوم ایرانی سلطنت - رومی سلطنت کے ماتحت مشرقی یورپ ترکی اسے سینیا یونان ، مصر ، شام اور اناطولیہ تھا اور ایرانی سلطنت کے ماتحت عراق، ایران رشین ٹری ٹوری کے بہت سے علاقے افغانستان ، ہندوستان کے بعض علاقے اور چین کے بعض علاقے تھے۔اس وقت کہیں دو بڑی حکومتیں تھیں۔ان کے سامنے عرب کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی لیکن ہجرت کے آٹھویں سال بعد سارا عرب رسول کریم علیہ کے تابع ہو گیا۔اس کے بعد جب سرحدوں پر عیسائی قبائل نے شرارت کی تو پہلے آپ خود وہاں تشریف لے گئے۔اس کی وجہ سے کچھ دیر کے لئے فتنہ ٹل گیا لیکن تھوڑے عرصہ بعد قبائل نے پھر شرارت شروع کی تو آپ نے ان کی سرکوبی کے لئے لشکر بھجوایا۔اس لشکر نے بہت سے قبائل کو سرزنش کی اور بہتوں کو معاہدہ سے تابع کیا۔پھر آپ کی وفات کے بعد اڑھائی سال کے عرصہ میں سارا عرب اسلامی حکومت کے ماتحت آگیا بلکہ یہ حکومت عرب سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی پھیلنی شروع ہوئی۔فتح مکہ کے پانچ سال کے بعد ایرانی حکومت پر حملہ ہو گیا تھا اور اس کے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا گیا تھا اور چند سالوں میں رومی سلطنت اور دوسری سب حکومتیں تباہ ہو گئی تھیں۔اتنی بڑی فتح اور اتنے عظیم الشان تغیر کی مثال تاریخ میں اور کہیں نہیں ماتی۔تاریخ میں صرف نپولین کی ایک مثال ملتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں کوئی ایسی طاقت نہیں تھی جو تعداد اور قوت میں اس سے زیادہ ہو۔جرمنی کا ملک تھا مگر وہ اس وقت چودہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم تھا اس طرح اس کی تمام طاقت منتشر تھی۔ایک مشہور امریکن پریذیڈنٹ سے کسی نے پوچھا کہ جرمنی کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے تو اس نے کہا ایک شیر ہے دو تین لومز ہیں اور کچھ چوہے ہیں۔شیر سے مراد رشیا تھا۔لومز سے مراد دوسری حکومتیں اور چوہوں سے مراد جرمن تھے۔گویا جر منی اس وقت ٹکڑے