مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 666 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 666

666 ٹکڑے تھا۔روس ایک بڑی طاقت تھی مگر وہ روس کے ساتھ ٹکر لیا اور وہاں سے ناکام واپس لوٹا۔اس طرح انگلستان کو بھی فتح نہ کر سکا اور انجام اس کا یہ ہوا کہ وہ قید ہو گیا۔پھر دوسرا بڑا شخص ہٹلر آیا۔بلکہ دوبڑے آدمی دو ملکوں میں ہوئے۔ہٹلر اور مسولینی۔دونوں نے بیشک ترقیات حاصل کیں لیکن دونوں کا انجام شکست ہوا۔مسلمانوں میں جس نے یکدم بڑی حکومت حاصل کی وہ تیمور تھا۔اس کی بھی یہی حالت تھی۔وہ بے شک دنیا کے کناروں تک گیا لیکن وہ اپنے اس مقصد کو کہ ساری دنیا کو فتح کرلے، پورا نہ کر سکا۔مثلا وہ چین کو تابع کرنا چاہتا تھا لیکن تابع نہ کر سکا اور جب وہ مرنے لگا تو اس نے کہا میرے سامنے انسانوں کی ہڈیوں کے ڈھیر ہیں جو مجھے ملامت کر رہے ہیں۔پس صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی آدم سے لے کر اب تک ایسے گذرے ہیں جنہوں نے فرد واحد سے ترقی کی۔تھوڑے سے عرصہ میں ہی سارے عرب کو تابع فرمان کر لیا اور آپ کے وفات کے بعد آپ کے ایک خلیفہ نے ایک بہت بڑی حکومت کو توڑ دیا اور باقی علاقے آپ کے دوسرے خلیفہ نے فتح کر لئے۔یہ تغیر جو واقع ہوا خدائی تھا کسی انسان کا کام نہیں تھا۔رسول کریم کے فوت ہوئے تو آپ کے بعد حضرت ابو بحر خلیفہ ہوئے۔رسول کریم ﷺ کی وفات کی خبر مکہ میں پہنچی تو ایک مجلس میں حضرت ابو بحر کے وائد ابو قحافہ بھی بیٹھے تھے۔جب پیغامبر نے کہا کہ رسول کریم علے فوت ہو گئے ہیں تو سب لوگوں پر غم کی کیفیت طاری ہو گئی اور سب نے یہی سمجھا کہ اب ملکی حالات کے ماتحت اسلام پراگندہ ہو جائے گا چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب کیا ہو گا۔پیغامبر نے کہا آپ کی وفات کے بعد حکومت قائم ہو گئی ہے اور ایک شخص کو خلیفہ بنالیا گیا ہے۔انہوں نے دریافت کیا کہ کون خلیفہ مقرر ہوا ہے۔پیغامبر نے کہا۔ابو بحر - ابو قحافہ نے حیران ہو کر پوچھا کون ابو بحر ؟ کیونکہ وہ اپنے خاندان کی حیثیت کو سمجھتے تھے اور اس حیثیت کے لحاظ سے وہ خیال بھی نہیں کر سکتے کہ ان کے بیٹے کو سار اعرب بادشاہ تسلیم کر لے گا۔پیغا مبر نے کہا ابو بحر جو فلاں قبیلہ سے ہے۔ابو قحافہ نے کہا وہ کس خاندان سے ہے۔پیغا مبر نے کہا فلاں خاندان سے۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ دریافت کیا وہ کس کا بیٹا ہے۔پیغامبر نے کہا ابو قحافہ کا بیٹا۔اس پر ابو قحافہ نے دوبارہ کلمہ پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی تھے۔ابو قحافہ پہلے صرف نام کے طور پر مسلمان تھے لیکن اس واقعہ کے بعد انہوں نے سچے دل سے سمجھ لیا کہ رسول کریم ﷺ اپنے دعوئی میں راست باز تھے کیونکہ حضرت ابو بحر کی خاندانی حیثیت ایسی نہیں تھی کہ سارے عرب آپ کو مان لیتے۔یہ الہی دین تھی مگر بعد میں مسلمانوں کی ذہنیت ایسی بگڑی کہ انہوں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ فتوحات ہم نے اپنی طاقت سے حاصل کی ہیں۔کسی نے کہنا شروع کیا کہ عرب کی اصل طاقت بنو امیہ ہیں اس لئے خلافت کا حق ان کا ہے۔کسی نے کہا بنو ہاشم عرب کی اصل طاقت ہیں۔کسی نے کہا بنو مطلب عرب کی اصل طاقت ہیں۔کسی نے کہا خلافت کے زیادہ حقدار انصار ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ علیہ کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔گویا