مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 664 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 664

664 اب سوال پیدا ہو تا ہے کہ یہ ساری باتیں کیوں ختم ہو گئیں۔اس کی یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کی ذہنیت خراب ہو گئی تھی۔اگر ان کی ذہنیت درست رہتی تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ نعمت ان کے ہاتھ سے چلی جاتی۔پس تم خدا تعالی کی خوشنودی حاصل کرو اور ہمیشہ اپنے آپ کو خلافت سے وابستہ رکھو۔اگر تم ایسا کرو گے تو خلافت تم میں ہمیشہ رہے گی۔خلافت تمہارے ہاتھ میں خدا تعالیٰ نے دی ہی اس لئے ہے تاوہ کہہ سکے کہ میں نے اسے تمہارے ہاتھ میں دیا تھا اگر تم چاہتے تو یہ چیز ہمیشہ تم میں قائم رہتی۔اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے الہامی طور پر قائم کر سکتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اگر تم لوگ خلافت کو قائم رکھنا چاہو گے تو میں بھی اسے قائم رکھوں گا۔گویا اس نے تمہارے منہ سے کہلوانا ہے کہ تم خلافت چاہتے ہو یا نہیں چاہتے۔اگر تم اپنا منہ بند کر لو یا خلافت کے انتخاب میں اہلیت مد نظر نہ رکھو مثلا تم ایسے شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لو جو خلافت کے قابل نہیں۔تو تم یقینا اس نعمت کو کھو بیٹھو گے۔مجھے اس طرف زیادہ تحریک اس وجہ سے ہوئی کہ آج رات دو بجے کے قریب میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ پنسل کے لکھے ہوئے کچھ نوٹ ہیں جو کسی مصنف یا مورخ کے ہیں اور انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں۔پنسل بھی Copying یا Blue رنگ کی ہے۔نوٹ صاف طور پر نہیں پڑھے جاتے اور جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوٹوں میں یہ بحث کی گئی ہے کہ رسول کریم عملے کے بعد مسلمان اتنی جلدی کیوں خراب ہو گئے باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ کے عظیم الشان احسانات ان پر تھے۔اعلیٰ تمدن اور بہترین اقتصادی تعلیم انہیں دی گئی تھی اور رسول کریم علے نے ان پر عمل کر کے بھی دکھا دیا تھا۔پھر بھی وہ گر گئے اور ان کی حالت خراب ہو گئی۔یہ نوٹ انگریزی میں لکھے ہوئے ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو انگریزی لکھی ہوئی تھی وہ بائیں طرف سے دائیں طرف کو نہیں لکھی ہوئی تھی بلکہ دائیں طرف سے سے بائیں طرف کو لکھی ہوئی تھی لیکن پھر بھی میں اسے پڑھ رہا تھا۔گو وہ خراب کی لکھی ہوئی تھی اور الفاظ واضح نہیں تھے بہر حال کچھ نہ کچھ پڑھ لیتا تھا۔اس میں سے ایک فقرہ کے الفاظ قریبا یہ تھے کہ There were two reasons for it Their temperment becoming (1) morbid and (2) Anarchicai۔یہ فقرہ بتا رہا ہے کہ مسلمانوں پر کیوں تباہی آئی۔اس فقرہ کے یہ معنی ہیں کہ وہ خرابی جو مسلمانوں میں پیدا ہوئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی طبائع میں دو قسم کی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ایک یہ کہ وہ ما ریڈ ( Morbid) ہو گئے تھے۔یعنی ان نیچرل (Unnatural) اور ناخوشگوار ہو گئے تھے اور دوسرے ان کی ٹنڈ نسیز (Tendancies) انار کل (Anarchical) ہو گئی تھیں۔میں نے سوچا کہ واقعہ میں یہ دونوں باتیں صحیح ہیں۔