مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 39
39 ہمیں بھی زور نہیں دینا چاہئے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جماعت احمدیہ کے لئے قرآن کریم پر عمل کرنا ضروری نہیں لیکن اگر یہ بات درست نہیں تو ماننا پڑے گا کہ ہر مناسب موقعہ پر اس کے لئے کوشش کی جاسکتی ہے۔میرا نظریہ یہ ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ اسلام کی تعلیم کو قائم کرنے کے لئے پوری کوشش کریں خواہ پچاس سال کا عرصہ کیوں نہ گذر چکا ہو۔اور معترض کا مقام یہ ہے کہ لوگ آزاد ہیں۔جس طرح چاہیں کریں۔گویا اس کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ اسلام کا قیام اصل غرض نہیں۔اصل غرض صرف یہ ہے کہ احمدی کہلایا جائے۔اور میرا یہ کہ اصل چیز صحیح اسلامی تعلیم کا قیام ہے۔صرف منہ سے احمدی کہلانا کوئی چیز نہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ دنیوی نقطہ نگاہ سے اس کا اصول صحیح سمجھا جا سکتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اسلامی تعلیم کا قیام ناممکن ہے مگر میں اسے بالکل ممکن سمجھتا ہوں۔اور یقین رکھتا ہوں کہ یہ ہو کر رہے گا۔وہ اپنے ایمان کے مطابق بات کرتا اور مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور میں اپنے ایمان کے مطابق امید پر قائم ہوں۔اور دراصل مقابلہ اس کی مایوسی اور میرے ایمان کا ہے۔ایک طرف اس کی مایوسی ہے جو کہتی ہے کہ چھوڑ دو اس کوشش کو۔اس میں کامیابی نہیں۔اور دوسری طرف میرا ایمان کہتا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے اور ضرور ہو کر رہے گا۔اس لئے ہمیں جلدی سے اسے کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا اس کا ثواب ہمیں ہی ملے۔دوسروں کو کیوں ملے۔بعد میں آنیوالوں کے لئے اللہ تعالیٰ ثواب حاصل کرنے کے اور سامان پیدا کر دے گا۔اور اس جدوجہد میں جسے میں شروع کرنا چاہتا ہوں کامیابی کے لئے بہترین وجود نوجوان ہی ہو سکتے ہیں۔مثلا ورثہ کو ہی لے لو۔والدین کی وفات کے بعد ورثہ انہی کے ہاتھ میں آنا ہے اور وہی اس کو تقسیم کرنیوالے ہو نگے۔وہ اگر چاہیں تو اپنی بہنوں اور ماؤں کو حصہ دیں۔اور چاہیں تو نہ دیں۔قانون ان پر کوئی جبر نہیں کرتا۔بلکہ قانون تھوڑا سا جبر اس رنگ میں کرتا ہے کہ وہ حصہ نہ دیں۔اگر ہمارے نوجوان اس بات کے لئے تیار ہو جائیں اور کہیں کہ خواہ ہمارے لئے کچھ بچے یا نہ بچے اور خواہ ہم غریب ہو جائیں ہم دریہ کو اسلام کی تعلیم کے مطابق ہی تقسیم کریں گے۔تو ہر شخص یہ تسلیم کرے گا کہ یہ جماعت ہے جس نے اسلام کی تعلیم کو عملاً دنیا میں قائم کر دیا ہے۔پس اگر ہمارے نوجوان اصلاح کرلیں اور اقرار کرلیں کہ نوجوان اسلامی تعلیم کو قائم کرنیکا عہد کریں جس طرح بھی ہو اسلام کی تعلیم کو قائم کریں گے تو مایوس ہو لوگ خود بخود اپنی شکست کا اقرار کر لیں گے۔کیونکہ جب کوئی واقعہ ہو جائے تو پھر اعتراض خود بخود مٹ جاتے ہیں۔جو لوگ بھی خدا تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے والے ہوں گے۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ یہی ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک شعر کرامات الصادقین میں ہے جس کا پہلا مصرعہ آپ فرماتے ہیں الہامی ہے اور وہ شعر یہ ہے۔واني انا الرحمن ناصر حربية ومن كان من حزبي فيعلى ويُنصر