مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 38
38 مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی ہے کہ اسلام کے غلبے پر یقین رکھو کہ وہ خدا کا وعدہ ہے اسی صورت میں اسلام دوبارہ قائم کیا جائے گا۔صرف اسلام کا نام قائم نہیں ہو گا بلکہ اس کی صورت بھی وہی ہو گی۔آج ٹر کی اسلام کی تعلیم میں تمام تبدیلیوں کے بعد یہ کہتا ہے کہ مسلمان کامیاب ہو گئے۔ایران تمام تغیرات کے باوجود مسلمانوں کی کامیابی کادعویٰ کرتا ہے۔ان ممالک میں سود قائم کیا گیا ہے۔پردہ اڑا دیا گیا ہے۔قرآن کریم کو عربی میں پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔عربی کیریکٹر اور حروف کو مٹانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ایشیائی خصوصاً عربی لباس کو مٹانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔اور ان سب باتوں کے باوجود کہا یہ جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری فتح اسلام کی فتح ہے۔حالانکہ ان ممالک کی فتح اسلام کی فتح نہیں کہی جاسکتی۔انگریزوں کو اگر فتح ہو تو یہ کسی مذہب کی نہیں بلکہ انگریز قوم کی فتح سمجھی جائے گی۔کیونکہ انگریز کسی مذہب کا نام نہیں۔مگر اسلام مذہب کا نام ہے۔اگر وہ قائم نہیں ہو تا تو اسلام کی بهر حال شکست ہے اور فتح ان لوگوں کی ہو گی جو اپنے ملک میں ایک نیا نظام قائم کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کے لئے حضرت مسیح موعود اسلام کی کیسی فتح کے مدعی ہیں ؟ ایسی فتح کے مدعی نہیں۔آپ نے یہ دعوی کیا ہے کہ پھر اسلام کو فتح حاصل ہوگی اور ہم نے یہ فتح حاصل کرنی ہے۔مگر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس کام کی راہ میں کس قدر مشکلات حائل ہیں۔ایک ایک قدم بڑھانا مشکل ہو رہا ہے۔بیرونی مخالفتوں کے علاوہ جماعت میں لوگوں کے اندر وسو سے پیدا ہو رہے ہیں۔کئی منافق ہیں جو فتنے پیدا کرتے رہتے ہیں۔میں نے تحریک کی کہ لوگوں کو نبوت کے طریق پر لانا چاہئے اور اس پر میں اعتراض سن رہا ہوں کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس طریق پر نہیں چلاتے تھے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ورثہ پر کوئی زور نہیں دیا اور جماعت میں اسے قائم نہیں کیا۔تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیشہ کے لئے ورثہ کے حکم کو مٹادینا چاہئے۔ای طرح داڑھی رکھنے کا مسئلہ ہے آپ نے داڑھی کے بارے میں حضرت مسیح موعود کا ارشاد فرمایا۔کہ ہم تو نصیحت کر دیتے ہیں جسے ہمارے ساتھ محبت ہو گی وہ خود رکھے گا۔ہماری داڑھی ہے اور جو ہمارے ساتھ محبت کرے گا وہ خود رکھ لے گا۔تو کیا اس کے یہ معنی ہیں کہ اب ہمیں داڑھی رکھنے پر کوئی زور نہیں دینا چاہئے۔میرے پیش کردہ اصول پر اگر اعتراض کیا جائے۔تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ سوائے ان چند عقائد کے جن کے پھیلانے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں زور دیا گیا اور کسی بات کو جاری کرنا جائز نہیں۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اس پیشگوئی کے ماتحت کہ جماعت کی ترقی آہستہ آہستہ ہوگی۔ان باتوں کو بعد میں آنیوالوں کے لئے چھوڑ دیا۔کیونکہ اس وقت جماعت اتنی پھیلی ہوئی نہیں تھی۔اور کسی نظام کے ذریعہ اسلام کی تعلیم پر عمل کرانا مشکل تھا۔پس اگر اس اصل کو مان لیا جائے کہ جس بات کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جبر سے کام نہیں لیا