مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 40

40 ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں رحمٰن ہوں۔جس کی دین اور بخشش اور رحمت سب پر وسیع ہے۔اور کافر و مومن میں کوئی فرق نہیں کرتی ہے اور میرے دین کے جو مخالف ہیں، میری رحمت ان کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔دیکھو سانس لینے کے لئے ہوا اور پانی اور روشنی کا سامان میں نے ان کے لئے بھی جو میرے دین کی مخالفت کرتے ہیں ویسا ہی کیا وا ہے جیسا مومنوں کے لئے کیونکہ میں رحمن ہوں۔پھر یہ کوئی کیونکر خیال کر سکتا ہے کہ جو میرا ہو جائے میں اسے چھوڑ دوں گا اور اس کی مدد پر کمر بستہ نہیں ہوں گا۔گویا پہلے مصرعہ کا نتیجہ آگے بیان کیا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے حزب ہو جاتے ہیں۔انہیں غلبہ دیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے۔پس جو بھی اللہ تعالیٰ کی جماعت میں داخل ہو جائے اسے مدد ملنا یقینی ہے کیونکہ جو ر ضمن اپنے دین کے مخالفوں کو بھی فیض سے محروم نہیں رکھتا۔یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو اس کا ہو جائے وہ اس کی مدد نہ کرے۔وہ ماں جو غیر کے بچہ سے محبت کرتی اور پالتی ہے اپنے بچے کے ساتھ اس کی محبت کا اندازہ کرنا بالکل آسان ہے خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں غیر سے بھی حسن سلوک کرتا ہوں۔میرا سورج ہے وہ تم کو ہی نہیں بلکہ ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔بلکہ یہ تو پھر بھی خدا کے کسی نہ کسی رنگ میں قائل ہیں ، دھریوں کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔خداتعالی کے بادل آتے ہیں۔مگر کیا کبھی تم نے دیکھا کہ وہ مومن کے کھیت کو تو سیراب کریں اور غیر مومنوں کے کھیتوں کو چھوڑ دیں۔کیا کبھی یہ ہوا ہے کہ اس کی ٹھنڈی ہوائیں تمہارے لئے تو ٹھنڈی اور آرام پہنچانے والی ہوں مگر کافروں کے لئے گرم لوبن جائیں۔وہ اسی طرح ان کو بھی لذت پہنچاتی ہیں جس طرح تمہیں۔تو جو رحمن خدا ہے اور جس کے فضلوں کا سلسلہ استناد سیع ہے کیا تم خیال کرتے ہو کہ جو اس کا ہو جائے وہ اسے چھوڑ دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اور الہام ہے جو دراصل پنجابی کا ایک پر انا شعر ہے۔مگر آپ پر بھی الہاما نازل ہوا ہے اور وہ یہ کہ " جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو " یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کا ہو جائے اللہ تعالی ساری دنیا کو اس کا بنا دیتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کی تائید میں لگا دیتا ہے۔شرارتیں بھی ہوتی ہیں مخالفتیں بھی مخالفتیں اور فتنے مومنوں کی جماعت کی ترقی کیلئے اٹھتے ہیں ہوتی ہیں اور فتنے بھی اٹھتے ہیں مگر اسے مٹانے کیلئے نہیں بلکہ اس کی عزت اور عظمت کو ظاہر کرنے کیلئے۔ایک شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تباہ نہیں ہوا۔تو لوگ کہتے ہیں کہ تم پر کوئی آفت تو آئی نہیں تم تباہ نہ ہوئے تو کونسے تعجب کی بات ہے۔مگر ایک کو لوگ سمندر میں پھینکتے ہیں۔آگ میں ڈالتے ہیں مگر وہ نہیں مرتا تو دوسرے اس سے لازماً مرعوب ہوتے اور سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی غیر معمولی آدمی ہے۔ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو آگ میں نہیں جلے اور ہم سب کا یہاں موجود ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم آگ میں نہیں جلائے گئے۔مگر کیا ہمارا نہ جلنا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نہ جلنا ایک ہی بات ہے۔کیا اگر کوئی کہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ نے نہیں جلایا تھا۔تو تم بھی اس کے جواب میں کہہ سکتے ہو کہ ہمیں بھی نہیں جلایا۔ظاہر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی نسبت