مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 379
379 احمدیہ جماعت کی فعالیت کا ذکر اغیار میں یورپ اور امریکہ جیسے ممالک میں اس وقت تک قریباً بارہ کتابیں ایسی چھپ چکی ہیں جو احمدیت کے متعلق ہیں یا ان کتابوں میں احمدیت کے متعلق کوئی نہ کوئی مضمون لکھا گیا ہے۔ان سب کتابوں میں یورپین اور عیسائی مصنفین نے اقرار کیا ہے کہ مسلمانوں میں صرف جماعت احمد یہ ہی ایک کام کرنے والی اور ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لینے والی قوم ہے۔اگر عیسائیت کو آج کسی قوم سے خطرہ ہے تو وہ صرف احمدی قوم ہے۔کسی مذہب یا مذہب کے کسی فرقہ سے عیسائیت کو اتنا خطرہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔جتنا احمدیت سے ہے حالانکہ ہم اپنی جماعت کے جو حالات جانتے ہیں، ان حالات سے ہم سمجھتے ہیں کہ ظاہری طاقت کے لحاظ سے ہم دوسروں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔پس جب ہماری تھوڑی سی کوشش ، تھوڑی سی قربانی اور تھوڑی سے جدو جہد کے بعد دنیا پر اس قدر رعب پڑ سکتا ہے تو اگر ہماری ساری جماعت منظم ہو جائے۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان بھی اور بوڑھے بھی اور بچے بھی اپنی اندرونی اصلاح کرنے کے بعد بیرونی دنیا کی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں تو غور کرنا چاہئے ہمارے اس رعب میں کتنا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔جماعتی رعب میں کس طرح اضافہ ہو سکتا ہے ؟ یقیناً موجودہ رعب سے ہزاروں گنار عب ہماری جماعت کا ہو سکتا ہے اور موجودہ تعداد سے ہزاروں گنا تعداد ہماری جماعت کی بڑھ سکتی ہے۔اور نہ صرف رعب اور تعداد کے لحاظ سے ہماری جماعت میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ہم موجودہ کام سے ہزاروں گنا زیادہ کام کر کے دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔اب بھی ہماری یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم کمزور ہیں۔ہمارے پاس سامان نہیں ہے۔ہمارے پاس طاقت اور دولت نہیں ہے پھر بھی بعض ممالک میں احمدیت کی دھاک بیٹھ چکی ہے مثلاً افریقہ ایک بہت بڑابر اعظم ہے۔اس نصف بر اعظم میں ہمارا تبلیغ کرنا ایسا ہی ہے جیساروس کے کنارہ سے جاپان تک کے علاقہ کو تبلیغ کی جائے۔ہمارے اس وسیع علاقہ میں صرف چار مبلغ کام کر رہے ہیں مگر ان چار مبلغوں کی تبلیغ کے نتیجہ میں افریقہ کے سارے کنارہ میں ایک دھوم مچی ہوئی ہے۔ہزارہا لوگ ہیں جو احمدیت قبول کر چکے ہیں۔گورنمنٹ ہے تو اس پر جماعت کا اثر ہے اور یورپین مصنفین کھلے بندوں تسلیم کرتے ہیں کہ عیسائیت کے مقابلہ میں جماعت احمدیہ کے مشنری اس علاقہ میں جو کچھ کر رہے ہیں وہ عیسائیت کے لئے نہایت خطر ناک ہے۔غرض گورنمنٹ کیا اور پبلک کیا سب جماعت احمدیہ کی طاقت کو تسلیم کرتے ہیں اور دلائل کے میدان میں ہمار ا مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں حالانکہ ہمارے وہاں صرف چار مبلغ ہیں چار مبلغ ایک ضلع کے لحاظ سے بھی بہت کم ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت ہمارے شامل حال ہے اور وہ اپنے