مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 380

380 فضل سے ہماری ناچیز کو ششوں میں بھی برکت پیدا کر دیتا ہے اس لئے ان چار احمدی مبلغین کا ایک وسیع علاقہ پر حیرت انگیز اثر ظاہر ہو رہا ہے۔وہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی لمبائی کئی ہزار میل کی ہے اور اس علاقہ کو اگر ایک جہاز طے کرنے لگے تو اسے بھی سات آٹھ دن لگ جاتے ہیں مگر اتنے وسیع علاقہ میں صرف چار احمدی مبلغین کی تبلیغ کے نتیجہ میں جماعت کی دھاک بیٹھ چکی ہے اور ہر جگہ یہ احساس پایا جاتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا مقابلہ کرنا کوئی آسان بات نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہاں بعض مقامی مبلغ بھی کام کر رہے ہیں، مگر وہ بھی ہمارے بعض مبلغین نے ہی تیار کئے ہیں اس لئے ان کا کام بھی ایک لحاظ سے ہمارے مبلغین کا کام ہے۔پس اگر چار مبلغین کے نتیجہ میں ایک وسیع بر اعظم کے لوگوں میں اتنابڑا تغیر پیدا ہو سکتا ہے تو اگر ہماری ساری جماعت اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے کھڑی ہو جائے اور دن اور رات اس کام میں لگ جائے۔وہ اپنے آرام کو نظر انداز کر دے۔اپنی سہولت کو پس پشت پھینک دے اور دیوانہ وار اس کام میں مشغول ہو جائے تو گو ہماری تعداد تھوڑی ہے۔ہمارے پاس اور اقوام کے سلسلہ میں سامان بہت کم ہے مگر یقین اس مجنونانہ کوشش کے نتیجہ میں دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر رونما ہو جائے گا اور ایک بڑا انقلاب الہی ہاتھوں سے ظاہر ہو گا۔بے شک آج ہمارے دعوؤں کو جنون سمجھا جاتا ہے۔آج ہمارے دعوؤں پر ہنسی اڑائی جاتی ہے، آج ہمارے کاموں کی تحقیر کی جاتی ہے لیکن اگر ہماری جماعت اپنی کوشش کو اسی طرح بڑھاتی چلی جائے تو کل دنیا میں یہ سمجھا جائے گا کہ ان ہاتھوں سے اس عظیم الشان قربانی کی وجہ جس کا نمونہ اس جماعت نے دکھایا۔یہ کام ہونا لازمی اور ضروری تھا۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمارے اندر ایک مجتو بانہ جوش پیدا ہو جائے۔ایک آگ ہو جو ہمارے سینہ میں ہر وقت سنگتی رہی ہو۔بے تابی ہو جو ہمیں کسی پہلو چین نہ لینے دیتی ہو اور ہم پورے عزم اور استقلال کے ساتھ اس بات پر قائم ہوں کہ ہماری زندگیوں کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلام اور احمدیت پر عمل اور اسلام اور احمدیت کے لئے قربانی۔“ ( خطبه فرموده ۲۹ ستمبر ۱۹۴۴ء مطبوعه الفضل ۱۱ اکتوبر ۱۹۴۴ء)