مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 378

378 نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔اسی طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھدار طبقہ کو (اور کوئی ملک ایسے سمجھدار طبقہ سے خالی نہیں ہوتا ) اسلام کی ہر تعلیم کی برتری بتا سکیں گے۔مگر یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو۔جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوں۔جب کثرت مبلغین ہمارے پاس موجود ہوں اور جب ان مبلغین کے لئے ہر قسم کا سامان ہمیں میسر ہو۔اسی طرح یہ کام اس وقت ہو سکتا ہے جب جماعت کے تمام نوجوان پورے طور پر منظم ہوں اور کوئی ایک مرد بھی ایسا نہ ہو جو اس تنظیم میں شامل نہ ہو۔وہ سب کے سب اس ایک مقصد کے لئے کہ ہم نے دنیا میں اسلام اور احمدیت کو قائم کرنا ہے اس طرح رات اور دن مشغول رہیں جس طرح ایک پاگل اور مجنون شخص تمام جہات سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک کام کی طرف مشغول ہو جاتا ہے۔وہ بھول جاتا ہے اپنی بیوی کو۔وہ بھول جاتا ہے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو اور صرف ایک مقصد اور ایک کام اپنے سامنے رکھتا ہے۔جنون کی کیفیت کی ضرورت اگر ہم جنون کی کیفیت اپنے اندر پیدا کر لیں اور اگر ہماری جماعت کا ہر فرد دن اور رات اس مقصد کو اپنے سامنے رکھے تو یقینا اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے کاموں میں برکت ڈالے گا اور اس کی کوششوں کے حیرت انگیز نتائج پیدا کر نا شروع کر دے گا۔اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا دنیا میں غیر معمولی رعب پایا جاتا ہے اور بہت سے شہر ایسے ہیں جہاں احمدیہ انجمنیں قائم ہو چکی ہیں۔بے شک ایسے بھی کئی شہر ہیں جن میں کوئی احمدی نہیں اور ایسے بھی شہر ہیں جن میں صرف ایک ایک احمدی ہے مگر باوجود اس کے ہندوستان میں ہماری جماعت کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اور لوگوں کے دل محسوس کرتے ہیں کہ یہ کام کرنے والی' دنیا میں ترقی کرنے والی زندہ قوم ہے۔اسی طرح تم مصر چلے جاؤ - عرب چلے جاؤ اور شام چلے جاؤ - ترکی چلے جاؤ -سب جگہ لوگوں کو یہی کہتا سنو گے کہ جماعت احمد یہ بہت بڑا کام کر رہی ہے حالانکہ ساری دنیا میں ہمارے صرف آٹھ دس مبلغ ہیں اور تعداد کے لحاظ سے ہم دوسروں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتے بلکہ بوجہ اس کے کہ ہماری جماعت کے افراد دوسروں سے بہت زیادہ قربانی اور ایثار کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اور اسلام کی اشاعت کے لئے وہ جس قدر کو شش کرتے ہیں اس کا عشر عشیر بھی دوسرے مسلمانوں میں نظر نہیں آتا۔جہاں چلے جاؤ احمدیت کی تعریف میں لوگ رطب اللسان ہوں گے اور وہ اس حقیقت کو بر ملا بیان کر رہے ہوں گے کہ جماعت احمدیہ ایک زندہ جماعت ہے۔