مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 377

377 قوموں کو اچھوت بنا کر ان سے لمبے عرصہ تک فائدہ اٹھاتی رہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ گو اچھوت قوموں سے ہندو ہمیشہ فائدہ اٹھاتے رہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے ایک طبقہ کو اچھوت بنا کر خود ہندو قوم بھی ایک ہزار سال سے مغلوب ہوتی چلی آئی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ چوہوں سے مغلوب نہیں ہوئی، وہ سانپوں سے مغلوب نہیں ہوئی، وہ بیلوں سے مغلوب نہیں ہوئی مگر وہ پہلے یونانیوں اور پھر پٹھانوں اور بعد میں مغلم ما سے مغلوب ہو گئی۔اب اس مغلوبیت کی وجہ یہی تھی کہ ملک کی اکثریت ایسی تھی جسے حکومت سے کوئی ہمدردی نہ تھی۔اس کے معاملات میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی اور اس کی خیر خواہی اور بھلائی اس کے مد نظر نہیں تھی کیونکہ وہ سمجھتی تھی ہم خواہ جیئیں یا مریں حکومت کو ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اچھوت اقوام کے ساتھ آرین اقوام نے ذلت کا سلوک روارکھا۔ان کے حقوق کو تلف کیا اور ان کی ترقی کو روک دیا مگر اسی وجہ سے خدا نے اور قوموں کو کھڑا کر دیا جنہوں نے مقابلہ کیا۔اس طرح وہی قوم جس نے اچھوتوں کو ذلیل کیا تھا، اسے خود دوسروں کا محکوم بننا پڑا۔اسی طرح بالکل ممکن ہے اگر فاتح مغربی اقوام جر منی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جر منی اور جاپان سے یہ قومیں ذلت نہ اٹھائیں۔مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قو میں کھڑی کر دے جن کا مقابلہ ان کے لئے آسان نہ ہو۔پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔پھر خدانخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا پیدا نہیں کر سکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کر ہیں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے کہ ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ اسلام کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں۔اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں جو ہماری باتوں پر سنجیدگی سے اور متانت کے ساتھ غور کریں گے یعنی جرمنی اور اور جاپان۔یہ دونوں ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہو جائیں گے خصوصاًجر منی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔اہل یورپ اسلام پر غور کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریبا دو ہزار سالہ غلامی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جنکی مثال سوائے پرانے زمانہ۔کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔اس وقت ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیرا ہو گا کہ آؤ ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریں۔اور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہوا ہے۔پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو