مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 193

193 اردو انگریزی یا کسی اور زبان کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی عبارت اس طرح پڑھی جاسکے جس طرح ہم ترتیل کے ساتھ الحمد لله رب العالمین پڑھتے ہیں۔اس کی بجائے اگر انگریزی کی یہ عبارت ہم ترتیل کے ساتھ پڑھیں "I will go there " تو وہ اس قدر مضحکہ خیز ہو جائے گی کہ ہر سننے والا ہنس پڑے گا مگر عربی کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان کا اتار چڑھاؤ بالکل نظم کا سا ہوتا ہے۔اس کی حرکات اپنے اندر خصوصیات رکھتی ہیں اور جب تک ان کی اتباع نہ کریں یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا منہ چڑا رہے ہیں۔اکسنٹ (ACCENT) پر جتنا زور عربی نے دیا ہے اور کسی زبان نے نہیں دیا۔ہر لفظ کی اس کے اتار چڑھاؤ سے اچھی یا بری شکل بن جاتی ہے اور ان کی کمی بیشی سے معنے بھی بدل جاتے ہیں۔مثلاً "ل " کے معنی ضرور کے ہیں لیکن اگر ذر المبا کر دیں اور "لا" کہیں تو اس کے معنی نہیں ہوں گے۔تو حرکت کے ذرا چھوٹا یا بڑا کر دینے سے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔قرآن کریم میں یتقون اور یتقون کے الفاظ آتے ہیں۔یتقون کے معنی ہیں وہ ڈرتے ہیں اور یتقون کے معنی ہو جائیں گے وہ مجھ سے ڈرتے ہیں تو جزم اور زیر کے فرق سے معنوں میں بہت سا فرق پڑ جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة خدا تعالی کے کلام کو بیان کرنے کی بہترین استعداد عربی میں ہے و السلام کے پاس ایک مرتبہ ایک پادری آیا۔اس نے کہا کہ عربی زبان کوئی ایسی زبان نہیں کہ جس میں خدا کا کلام نازل ہو یہ تو بدوؤں کی زبان ہے۔آپ نے فرمایا کہ نہیں خدا کا کلام بیان کرنے کی جو استعداد عربی زبان میں ہے وہ کسی اور زبان میں نہیں مگر اس پادری کا دعویٰ تھا کہ انگریزی کا مقابلہ عربی زبان ہرگز نہیں کر سکتی۔آپ نے اسے کہا کہ خدا تعالیٰ کے کلام کو بیان کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ زبان ایسی ہو جو بڑے سے بڑا مضمون چھوٹے سے چھوٹے الفاظ میں ادا کر سکے۔اس نے کہا ہاں۔انگریزی میں ہی یہ خصوصیت ہے۔آپ نے فرمایا اچھا اگر میرا پانی کہنا ہو تو انگریزی میں کیا کہیں گے اس نے کہا ”مائی واٹر۔آپ نے فرمایا عربی میں صرف ”مائی "کہہ دینا کافی ہو گا گویا انگریزی میں واٹر زائد ہے۔آپ کا یہ فرمانا بالکل خدائی تصرف کے ماتحت تھا ورنہ آپ تو انگریزی جانتے ہی نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کے منہ سے ایسا فقرہ کہلوا دیا جس سے عربی کا اختصار انگریزی کے مقابلہ میں واضح ہو گیا حالانکہ شاذ کے طور پر کوئی ایسا فقرہ بھی ہو سکتا ہے جس کا انگریزی ترجمہ عربی سے مختصر ہو مگر آپ کے منہ سے اسی فقرہ کا نکلنا تصرف الہی کے ماتحت تھا کہ ایسا فقرہ آپ کے منہ سے نکلا کہ جس کا آدھا حصہ ہی عربی میں انگریزی کے پورے فقرے کے معنے دیتا ہے۔تو عربی زبان میں کئی خصوصیات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے اور زبانوں میں یہ بات نہیں۔ان کو اگر اس رنگ میں پڑھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ منہ چڑایا جا رہا ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ تمام بیوت کے موذنوں کو درست اذان سکھائیں اور ان کو الفاظ پر بلاوجہ زور دینے اور گولائی دینے سے روکیں"۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 19 جنور کی ۱۹۴۰ء مطبوعہ انفضل ۳ مئی ۱۹۴۰ء)