مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 194

ہو چکا ہے ختم اب چگر تری تقدیر کا سونے والے اُٹھ کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا شکوه جور فلک کب تک رہے گا بر زبان دیکھ تو اب دوسرا رُخ بھی ذرا تصویر کا کاغذی جامہ کو پھینک اور آہنی زرہیں پہن وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا نیزه دشمن تیرے سینہ میں پیوستہ نہ ہو اس کے دل کے پار ہو سو فار تیرے تیر کا اپنی خوش اخلاقیوں سے موہ لے دشمن کا دل دلبری کر چھوڑ سودا نالہ دل گیر کا مدتوں کھیلا کیا ہے لعل و گوہر سے عدد اب دکھا دے تو ذرا جو ہر اُسے شمشیر کا پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ اور قوم کے فکروں میں پڑ ہاتھ میں شمشیر کے عاشق نہ بن کف گیر کا ملک کے چھوٹے بڑے کو وعظ کر پھر وعظ کر وعظ کرتا جا نہ کچھ بھی فکر کر تاثیر کا کل کے کاموں کو بھی ممکن ہو اگر تو آج کر اے مری جاں وقت یہ ہرگز نہیں تاخیر کا ہو چکی مشق ستم اپنوں کے سینوں پر بہت اب ہو دشمن کی طرف رُخ خنجر و شمشیر کا اے میرے فرہاد رکھ دے کاٹ کر کوہ وجبل تیرا فرض اولیں لانا ہے جوئے شیر کا ہو رہا ہے کیا جہاں میں کھول کر آنکھیں تو دیکھ وقت آپہنچا ہے تیرے خواب کی تعبیر کا ***