مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 192
192 خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ مؤذنوں کو درست اذانیں " سکھائیں میں نے غالباً ایک سال کا عرصہ ہوا خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی صحیح تلفظ اور اچھی آواز کی اہمیت کہ قادیان میں جو لوگ اذانیں دیتے ہیں ان کی اذانوں کی اصلاح کر دیں۔اب تو ان میں بہت سے مولوی فاضل بھی شامل ہو چکے ہیں۔خود ان کے صدر مولوی فاضل اور حافظ ہیں اس لئے یہ کام ان کے لئے بہت آسان ہے مگر اب یہ مرض بجائے کم ہونے کے زیادہ شاندار ہو رہا ہے۔ابھی جو اذان کہی گئی ہے یوں معلوم ہو تا تھا کہ موذن کے حلق میں آلو پھنسا ہوا ہے۔وہ ہر لفظ کو آؤں کہہ کر ادا کرتا ہے۔پہلے تو میں نے توجہ دلائی تھی کہ حسی کو حایا کہا جاتا ہے مگر آج صرف حسی کہا گیا ہے یعنی دوسری یا ء ا ڑ گئی ہے۔اذان کا درست طور پر یاد کر لینا معمولی سی بات ہے اور اس کے خوبصورت یا بد صورت ہونے کا طبائع پر اثر پڑتا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول سنایا کرتے تھے کہ ایک مسجد کے پاس ایک سکھ رئیس رہا کرتا تھا۔اس نے ایک دفعہ اس مسجد میں اذان دینے والے کو کچھ تحفہ دیا۔پگڑی اور دس بارہ روپے اسے دے دیئے اور کہا کہ یہ نذر ہے اس لئے کہ آپ آئندہ اذان کہنی چھوڑ دیں۔اس نے پوچھا کہ کیوں تو وہ کہنے لگا کہ آپ کی آواز ایسی اچھی ہے کہ میری بیٹی کہتی ہے کہ مجھے مسلمانوں کا مذہب بہت اچھا لگتا ہے اس لئے یہ نذر لے لو اور بھی میں پیش کرتا رہوں گا اور اذان کہنا چھوڑ دو۔وہ بے چارہ معمولی حیثیت کا آدمی تھا۔لالچ میں آگیا اور اذان کہنی چھوڑ دی۔دوسرا جو اس کی جگہ مقرر ہوا اس کی آواز نہایت مکروہ تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ چند روز کے بعد اس سکھ رئیس کی لڑکی نے کہا کہ اباجی معلوم ہوتا ہے ، میری رائے غلط تھی۔مسلمانوں کا مذہب کوئی ایسا اچھا معلوم نہیں ہو تا۔تو ظاہری باتوں کا بھی طبائع پر اثر ہوتا ہے۔ہندوستانی ل سے پہلے ایک آؤ کی ظاہری باتوں کا طبائع پر اثر آواز نکالتے ہیں اور اس طرح پو را زور لگا کر اس آؤ کو نکالتے ہیں جس طرح مزدور کہا کرتے ہیں کہ ”لا دے زور " مگر عربی طریق یہ نہیں وہ ال کہیں گے جیسے برتن میں کوئی چیز ڈالی جائے تو اسے جھنکار پیدا ہوتی ہے۔یہ عربی زبان کی ایک خوبی ہے کہ اس میں ایک موسیقی پائی جاتی ہے اور کسی زبان میں یہ بات نہیں اور عربی کی اس خوبی کا بہترین نمونہ قرآن کریم نے پیش کیا ہے۔دنیا کی کوئی اور ایسی کتاب نہیں جس کی نثر ترتیل کے ساتھ پڑھی جاسکے جس طرح کہ قرآن کریم پڑھا جا سکتا ہے۔