مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 17

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 17 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالی کی وجہ سے یا بدظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔آج کل کے معاشرے میں یہ چیزیں عام ہیں اور خاص طور پر ہمارے برصغیر پاک و ر ہند کے معاشرے میں تو یہ اور بھی زیادہ عام چیز ہے۔اور اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی بعض دفعہ ایسی گھٹیا سوچ رکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں یہ لوگ کہیں بھی چلے جائیں اپنے اس گندے کیریکٹر کی کبھی اصلاح نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔اور آج کل کے اس معاشرے میں جبکہ ایک دوسرے سے ملنا جلنا بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے، غیروں سے گھلنے ملنے کی وجہ سے ان برائیوں میں جن کو ہمارے بڑوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر ترک کیا تھا بعضوں کی اولادیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔ہمارے احمدی معاشرہ میں ہر سطح پر یہ کوشش ہونی چاہئے کہ احمدی نسل میں پاک اور صاف سوچ پیدا کی جائے۔اس لئے ہر سطح پر جماعتی نظام کو بھی اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو بھی یہ کوشش کرنی چاہئے کہ خاص طور پر یہ برائیاں، حسد ہے، بدگمانی ہے، بدظنی ہے، دوسرے پر عیب لگانا ہے اور جھوٹ ہے اس برائی کو ختم کرنے کے لئے کوشش کی جائے، ایک مہم چلائی جائے۔ہراحمدی خطبات کا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے کچھ عرصہ ہوا ہر برائی کو لے کر میں نے ایک ایک خطبہ بڑی تفصیل سے اس بارے میں دیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے اچھے نتائج بھی نکلے تھے لیکن انسان کی فطرت ہے کہ اگر بار بار یاددہانی نہ کرائی جائے تو بھول جاتا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں فَذَکر کا حکم دیا ہے۔اس یاد دہانی سے جگالی کرنے کا بھی موقع ملتا رہتا ہے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو اگر اصلاح کے لئے ذرا سی توجہ دلا دی جائے تو اصلاح کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ان کو صرف ہلکی سی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ہاں بعض ایسے بھی ہیں جو کوئی نصیحت سن کر یا کوئی خطبہ سن کر جو کبھی میں نے کسی خاص موضوع پر دیا یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں نہیں بلکہ فلاں کے بارے میں ہے اور پھر بڑی ڈھٹائی سے خطبے کا حوالہ دے کر مجھے بھی لکھتے ہیں کہ آپ نے فلاں خطبہ دیا تھا اس کے حوالے سے میں آپ کو لکھ رہا ہوں کہ فلاں عہد یدار یا فلاں احمدی ان حرکتوں میں ملوث ہے، ان برائیوں میں گھرا ہوا ہے اس کی اصلاح کی طرف آپ توجہ دیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اگر تحقیق کرو تو پتہ چلتا