مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 16

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 16 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبه جمعه فرموده 26 مئی 2006 ء سے اقتباسات حسد اور بدظنی سے عیب لگانے سے پر ہیز کریں بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بدظنی کی وجہ سے اس حد تک اپنے دلوں میں کینے پالنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے شخص کا مقام اوروں کی نظر میں گرانے کے لئے ، معاشرے میں انہیں ذلیل کرنے کے لئے ، رسوا کرنے کے لئے۔ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر کے پھر اس کی تشہیر شروع کر دیتے ہیں اور اس بات سے بھی دریغ نہیں کرتے کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی باتیں مجھے پہنچائیں تا کہ اگر کوئی کارکن یا اچھا کام کرنے والا ہے تو اس کو میری نظروں میں گرا سکیں۔اور پھر یہی نہیں بلکہ بڑے اعتماد سے بعض لوگوں کے نام گواہوں کے طور پر بھی پیش کر دیتے ہیں اور جب ان گواہوں سے پوچھو، گواہی لو تحقیق کرو تو پتہ چلتا ہے کہ گواہ بیچارے کے فرشتوں کو بھی علم نہیں کہ کوئی ایسا واقعہ ہوا بھی ہے یا نہیں جس کی گواہی ڈلوانے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ مجھے مجبور کیا جاتا ہے کہ میں ان جھوٹی باتوں پر یقین کر کے جس کے خلاف شکایت کی گئی ہے ضرور اسے سزا بھی دوں۔گویا یہ شکایت نہیں ہوتی ایک طرح کا حکم ہوتا ہے۔بہت سی شکایات درست بھی ہوتی ہیں۔لیکن اکثر جو ذاتی نوعیت کی شکایات ہوتی ہیں وہ اس بات پر زور دیتے ہوئے آتی ہیں کہ فلاں فلاں شخص مجرم ہے اور اس کو فوری پکڑیں۔ان باتوں پر میں خود بھی کھٹکتا ہوں کہ یہ شکایت کرنے والے خود ہی کہیں غلطی کرنے والے تو نہیں، اس کے پیچھے دوسرے شخص کے خلاف کہیں حسد تو کام نہیں کر رہا۔اور اکثر یہی ہوتا ہے کہ حسد کی وجہ سے یہ کوشش کی جارہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچایا جائے۔یہ حسد بھی اکثر احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔اس خیال کے دل میں نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ خدا جھوٹے اور حاسد کی مدد نہیں کرتا۔اور حسد