مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 18 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 18

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 18 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ہے کہ سب سے زیادہ اس برائی میں وہ شکایت کنندہ خود گرفتار ہے۔پس ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔اگر اپنی اصلاح کرنی چاہتے ہیں ، اگر معاشرے سے گند ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنا چاہتے ہیں تو یہ تمام برائیاں ایسی ہیں۔ان کو اپنے دلوں سے نکالیں۔اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی ہمیں توجہ دلائی ہے۔پس یہ اہم بیماریاں ہیں جو انسان کے اپنے اندر سے بھی روحانیت ختم کرتی ہیں اور پھر شیطانیت کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں اور معاشرے کا امن وسکون بھی برباد کرتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی پاکیزہ کتاب میں ان سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ ایک مومن ہرلمحہ پاکیزگی اور روحانیت میں ترقی کرتا چلا جائے۔اس مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تا کہ روحانیت میں ترقی کی طرف ہمیں لے کر چلیں اور ایک احمدی نے آپ سے عہد بیعت باندھا ہے۔اگر اس عہد بیعت کے بعد بھی برائیوں میں مبتلا ر ہے اور معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا کرتے رہے تو پھر اس عہد بیعت کا کیا فائدہ ہے۔پس ہر ایک کو پہلے اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہئے ، نیکی کے جو احکامات ہیں ان کی جگالی کرتے رہنا چاہئے اور جب اپنے آپ کو ہر طرح سے پاک وصاف پائیں تو پھر دوسرے پر الزام لگانا چاہئے۔حسد کی بجائے رشک کریں۔۔۔۔۔حسد کرنے والے کی حالت ایسی ہے جیسے جہنم کی پیپ پینے والے کی۔اللہ تعالیٰ پر جو ایک مومن کا ایمان ہے، حسد اس کو ضائع کرنے کا بھی باعث بنتا ہے۔یا حسد کرنا جو ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جہنم میں لے جانے والی چیز ہے۔پس یہ انتہائی خوف کا مقام ہے۔یہ حسد کرنے والے دوسرے کو عارضی اور وقتی طور پر جو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا تو مداوا ہو جاتا ہے لیکن یہ اس حسد کی وجہ سے اپنے ایمان کو ضائع کر کے پھر جہنم اپنے اوپر سمیٹر رہے ہوتے ہیں۔اس لئے کسی کی ترقی دیکھ کر کسی کا خلافت کے ساتھ زیادہ قرب دیکھ کر کسی پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش دیکھ کر حسد کرنے کی بجائے اس پر رشک کرنا چاہئے اور خود وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پہ یہ بات بھی ہر احمدی کو اپنے ذہن میں رکھنی چاہئے۔آپس کے سلام محبت پیدا کرنے کے لئے