مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 14

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 14 ارشادات حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ایک حدیث میں آتا ہے حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے بچی تو بہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔(رساله قشيرية باب التوبة) جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کے محرکات اُسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔واضح ہو کہ یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے چلے جاؤ، جان بوجھ کر گند میں گرتے چلے جاؤ اور مجھو کہ میں نے استغفار کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے۔مطلب یہی ہے کہ اس کو بدی کی طرف، برائی کی طرف کوئی رغبت نہیں ہوتی۔پھر حضور نے یہ آیت پڑھی کہ {انَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ } - اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔عرض کیا گیا یا رسول اللہ ! تو بہ کی علامت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی علامت تو بہ ہے۔تو دیکھیں علامت یہ بتائی کہ ندامت ہو، پشیمانی ہو اور اس کی وجہ سے پھر آئندہ ان سے بچتا بھی رہے۔کیونکہ جس بات کی ندامت ہو اور پشیمانی ہو اس بات کو انسان دوبارہ جان بوجھ کر نہیں کرتا۔الفضل انٹر نیشنل 3 تا 9 جون 2005 ء )