مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 13
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 13 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 2005 ء سے اقتباسات * وَانِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ ۖ وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِير» (سورة هود آيت نمبر4) یہ آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: اور یہ کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو، پھر اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکوتو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہترین معیشت عطا کرے گا۔اور وہ ہر صاحب فضیلت کو اس کے شایان شان فضل عطا کرے گا۔اور اگر تم پھر جاؤ تو یقینا میں تمہارے بارے میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔حقیقی استغفار کا طریق تو دیکھیں فرمایا کہ استغفار کرو اور جو استغفار نیک نیتی سے کی جائے ، جو تو بہ اس کے حضور جھکتے ہوئے کی جائے کہ اے اللہ! یہ دنیاوی گند، یہ معاشرے کے گند، ہر کونے پر پڑے ہیں۔اگر تیرا فضل نہ ہو ، اگر تو نے مجھے مغفرت کی چادر میں نہ ڈھانپا تو میں بھی ان میں گر جاؤں گا۔میں اس گند میں گرنا نہیں چاہتا۔میری چھلی غلطیاں، کوتاہیاں معاف فرما، آئندہ کے لئے میری توبہ قبول فرما۔تو جب اس طرح استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ پچھلے گناہوں کو معاف کرتے ہوئے ، توبہ قبول کرتے ہوئے ، اپنی چادر میں ڈھانپ لے گا۔اور پھر اپنی جناب سے اپنی نعمتوں سے حصہ بھی دے گا۔دنیا سمجھتی ہے کہ دنیا کے گند میں ہی پڑ کر یہ دنیاوی چیز میں ملتی ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تو بہ کرنے والے ہیں، جو استغفار کرنے والے ہیں ، ان کو میں ہمیشہ کے لئے دین و دنیا کی نعمتوں سے نوازتا رہوں گا۔اُن کی زندگی میں بھی ان کے لئے اس دنیا کے دنیاوی سامان ہوں گے اور ان پر فضلوں کی بارش ہوگی۔اور اُن کے یہ استغفار اور اُن کے نیک عمل آئندہ زندگی میں بھی اُن کے کام آئیں گے۔اور یہی استغفار ہے جس سے شیطان کے تمام حربے فنا ہو جائیں گے۔