مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 8
مشعل راه جلد پنجم حصہ دوم 8 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی عمل بھی اچھے ہوں گے۔آپ نے یہی تلقین فرمائی ہے کہ اگر سمجھانے والے کے دل میں تقویٰ ہے، سمجھانے والے کے دل میں نیکی ہے، سمجھانے والے کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف ہے تو موقع کے مطابق اگر بات کرو گے تو نیک بات کا اثر ہوگا۔لیکن موقع محل کے حساب سے تلقین کرنا ضروری ہے۔اگر کسی کی برائی دیکھ کر لوگوں کے سامنے ہی اس کو سمجھانے لگ جاؤ گے اور زبان میں تیزی پیدا کرو گے تو پھر دوسرا شخص جس کو تم سمجھا رہے ہو گے نیک اثر نہیں لے گا۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ پہلے سے بڑھ کر ضد میں آ کر برائی کرے۔پس سمجھانے کے لئے بھی موقع اور وقت اور عمل اور تقویٰ ضروری ہے۔اگر اس طرح عمل ہوں گے تو خدا تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اس کے رحم کے بھی یقیناً حقدار ہوں گے۔کیونکہ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو یہ نیک عمل کر رہے ہوں گے میں ان پر ضرور رحم کروں گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔غیبت سے معاشرے میں نفرتیں جنم لیتی ہیں۔۔۔۔مثلاً غیبت ہے۔کسی کا اس کے پیچھے برے الفاظ میں ذکر کر نا قطع نظر اس کے کہ وہ برائی اس میں ہے یا نہیں۔اگر اس کی کسی برائی کا اس کے پیچھے ذکر ہوتا ہے اور باتیں کی جاتی ہیں تو یہ غیبت ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بیعت لیا کرتے تھے تو اس بات پر خاص طور پر بیعت لیا کرتے تھے کہ غیبت نہیں کروں گا۔تو کتنی اہمیت ہے اس بُرائی کی کیونکہ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر یہ بعض دفعہ جماعت میں فتنے کا باعث بنتی ہیں۔اور اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس برائی کے متعلق بہت زور دے کر سمجھایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کو چاہئے کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور اس کو بیان کر کے دُور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کون سا ایسا عیب ہے جو کہ دُور نہیں ہوسکتا۔اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعے سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے“۔آپ نے فرمایا کہ: ” ایک صوفی کے دو مرید تھے۔ایک نے شراب پی اور نالی میں بیہوش ہو کر گرا۔دوسرے نے صوفی سے شکایت کی۔اس نے کہا تو بڑا بے ادب ہے کہ اس کی شکایت کرتا ہے اور جا کر اٹھا نہیں لاتا۔وہ اُسی وقت گیا اور اسے اٹھا کر لے چلا۔وہ بزرگ ” کہتے تھے کہ ایک نے تو بہت شراب پی لیکن دوسرے نے کم پی کہ اسے اٹھا کر لے جارہا ہے“۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ”صوفی کا یہ مطلب تھا کہ تو