مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 9
مشعل راه جلد پنجم حصه سوم 9 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائی کی غیبت کیوں کی“۔آپ فرماتے ہیں کہ : "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے برا لگے غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔۔۔پھر ایک برائی ہے جھوٹ ، کوئی شخص اگر ذراسی مشکل میں بھی ہو تو اس سے بچنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے لیتا ہے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جھوٹ کو برائی نہیں سمجھا جاتا۔حالانکہ جھوٹ ایسی برائی ہے جو سب برائیوں کی جڑ ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک برائی سے چھٹکارہ پانے کی درخواست کرنے والے کو یہی فرمایا تھا کہ اگر ساری برائیاں نہیں چھوڑ سکتے تو ایک برائی کو چھوڑ دو اور وہ ہے جھوٹ۔اور یہ عہد کرو کہ ہمیشہ سچ بولو گے۔اب بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جھوٹ صرف اتنا ہے کہ عدالت میں غلط بیان دے دیا۔اگر چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے تو جھوٹ بول کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔اگر کوئی غیر اخلاقی حرکت کی تو جھوٹ بول دیا۔یا کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے دی اور بلاوجہ کسی کومشکل میں مبتلا کر دیا۔یقیناً یہ سب باتیں جھوٹ ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی غلط بیانیاں کرنا بھی جھوٹ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے ہمیں اس کی ایک مثال دی ہے۔جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جھوٹ کی تعریف کیا ہے۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور اسے دیتا کچھ نہیں تو یہ جھوٹ میں شمار ہوگا۔یہ جھوٹ کی تعریف ہے۔اب اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو پتہ چلے گا کہ ہم روزانہ کتنی دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بول جاتے ہیں۔مذاق مذاق میں ہم کتنی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جھوٹ ہوتی ہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اگر ہم اس بارے میں گہرائی میں جا کر توجہ کریں گے۔تب ہم اپنے اندر سے اور اپنے بچوں کے اندر سے جھوٹ کی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں۔عہد بیعت ایک امانت ہے پس ہم جو احمدی ( مومن ) ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی ہے کہ