مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 7

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 7 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ یہ برائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔مثلاً کنجوسی کی عادت ہے یعنی دوسروں کی ضرورت کو دیکھ کر با وجود تو فیق ہونے کے اس کی مدد نہ کرنا یا جماعتی چندوں میں ہاتھ روک کر رکھنا۔پھر بدظنی کرنا ہے، دوسروں پر بلا وجہ الزام لگانا ہے، لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے، حسد کرنا ہے، لغو اور بیہودہ باتیں ہیں جن سے اپنے آپ کو اور جماعت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے نقصان ہورہا ہوتا ہے۔کسی کی غیبت کرنا ہے۔جھوٹ بولنا ہے۔جھوٹ بھی ایک بہت بڑی لعنت ہے جو انسان کو دوسرے گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔خیانت کرنا ہے، اس میں آنکھ کی خیانت بھی ہے ، مرد کا عورت کو بری نیت سے دیکھنا۔کسی کی امانت میں خیانت بھی ہے۔اس میں اور بھی بہت سی باتیں آجاتی ہیں۔مثلاً اپنا کام صحیح طرح نہ کرنا۔ہر ایک احمدی (مومن) جس کو نیکی کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے کا حکم ہے اسے سب سے پہلے اپنے آپ کو ہی برائیوں سے پاک کرنا ہوگا اور نیکیوں کو اختیار کرنا ہوگا۔تبھی وہ دوسروں کو حکم دے سکتا ہے۔ورنہ اگر ہم یہ نہیں کرتے تو ہم منافقت اور دوغلی باتوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔اور ایسے لوگوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا سخت انذار فرمایا ہے۔اور فرمایا ہے کہ ایسے لوگ جہنمی ہیں جن کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے۔۔اگر یا نذار سن کر کسی کو یہ خیال آئے کہ پھر تو بہتر ہے کہ میں خاموش رہوں اور کبھی نیکیوں کی تعلیم نہ دوں اور نہ بری باتوں سے روکوں جب تک کہ میں خود اس قابل نہیں ہو جاتا۔اگر یہ خیال آئے گا تو انسان اپنی اصلاح سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔اس لئے یہ تعلیم دینا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے۔پس ہر ایک کے لئے ضروری ہے کہ وہ نیکیوں کی تعلیم بھی دے اور ساتھ ساتھ اپنا محاسبہ بھی کرتا رہے، اپنا جائزہ بھی لیتا رہے کہ میری اصلاح ہورہی ہے کہ نہیں۔یہ انتہائی ضروری امر ہے۔اظہار حق میں بزدلی نہیں دکھانی ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ حق کے اظہار کے لئے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا کیونکہ جرات سے نیکیوں کو پھیلانا ، ان کے کرنے کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ہی ایک معیار ہے جس سے مومن ہونے کا پتہ چلتا ہے۔لیکن مومن کا عمل بھی اس کے مطابق ہونا چاہئے۔جب اپنا عمل بھی ہو گا تب ہی اثر بھی قائم ہو گا۔اور جب عمل ہوگا تو پھر سختی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ایسے آدمی کی تلقین کا بھی لوگ نیک اثر لیں گے جن کے اپنے