مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 190
مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 190 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبه جمعه فرمودہ 10 مارچ 2006ء سے اقتباسات * میثاق مدینہ کی بعض اہم شرائط مدینہ میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔اس معاہدے کے تحت آنحضرت ﷺ نے جو شقیں قائم فرمائی تھیں، جو روایات پہنچی ہیں ان کا میں ذکر کرتا ہوں کہ کس طرح اس ماحول میں جا کر آپ نے رواداری کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اُس معاشرے میں امن قائم فرمانے کیلئے آپ کیا چاہتے تھے؟ تاکہ معاشرے میں بھی امن قائم ہوا اور انسانیت کا شرف بھی قائم ہو۔مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے یہودیوں سے جو معاہدہ فرمایا اس کی چند شرائط یہ تھیں کہ مسلمان اور یہودی آپس میں ہمدردی اور اخلاص کے ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے کے خلاف زیادتی یا ظلم سے کام نہ لیں گے۔اور باوجود اس کے کہ ہمیشہ اس شق کو یہودی توڑتے رہے مگر آپ احسان کا سلوک فرماتے رہے یہاں تک کہ جب انتہا ہو گئی تو یہودیوں کے خلاف مجبوراً سخت اقدام کرنے پڑے۔دوسری شرط یہ تھی کہ ہر قوم کو مذہبی آزادی ہوگی۔باوجود مسلمان اکثریت کے تم اپنے مذہب میں آزاد ہو۔تیسری شرط یہ تھی کہ تمام باشندگان کی جانیں اور اموال محفوظ ہوں گے اور ان کا احترام کیا جائے گا سوائے اس کے کہ کوئی شخص جرم یا ظلم کا مرتکب ہو۔اس میں بھی اب کوئی تفریق نہیں ہے۔جرم کا مرتکب چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو اس کو بہر حال سزا ملے گی۔باقی حفاظت کرنا سب کا مشتر کہ کام ہے ، حکومت کا کام ہے۔پھر یہ کہ ہر قسم کے اختلاف اور تنازعات رسول اللہ کے سامنے فیصلے کیلئے پیش ہوں گے اور ہر فیصلہ خدائی حکم کے مطابق کیا جائے گا۔اور خدائی حکم کی تعریف یہ ہے کہ ہر قوم کی اپنی شریعت کے مطابق۔فیصلہ بہر حال آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش ہونا ہے کیونکہ اس وقت حکومت کے مقتدر اعلیٰ آپ تھے۔اس