مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 191
191 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم لئے آپ نے فیصلہ فرمانا تھا لیکن فیصلہ اس شریعت کے مطابق ہوگا اور جب یہودیوں کے بعض فیصلے ایسے ہوئے ان کی شریعت کے مطابق تو اس پر ہی اب عیسائی اعتراض کرتے ہیں یا دوسرے مخالفین اعتراض کرتے ہیں کہ جی ظلم ہوا۔حالانکہ ان کے کہنے کے مطابق ان کی شرائط پر ہی ہوئے تھے۔پھر ایک شرط یہ ہے کہ کوئی فریق بغیر اجازت رسول اللہ ﷺ کے جنگ کیلئے نہ نکلے گا۔اس لئے حکومت کے اندر رہتے ہوئے اس حکومت کا پابند ہونا ضروری ہے۔اب یہ جو شرط ہے یہ آجکل کی جہادی تنظیموں کیلئے بھی رہنما ہے کہ جس حکومت میں رہ رہے ہیں اس کی اجازت کے بغیر کسی قسم کا جہاد نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ اس حکومت کی فوج میں شامل ہو جائیں اور پھر اگر ملک لڑے یا حکومت تو پھر ٹھیک ہے۔پھر ایک شرط ہے کہ اگر یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تو وہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے۔یعنی دونوں میں سے کسی فریق کے خلاف اگر جنگ ہوگی تو دوسرے کی امداد کریں گے اور دشمن سے صلح کی صورت میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں کو اگر صلح میں کوئی منفعت مل رہی ہے، کوئی نفع مل رہا ہے، کوئی فائدہ ہو رہا ہے تو اس فائدے کو ہر ایک حصہ رسدی حاصل کرے گا۔اسی طرح اگر مدینے پر حملہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کرینگے۔پھر ایک شرط ہے کہ قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی جائے گی کیونکہ مخالفین مکہ نے ہی مسلمانوں کو وہاں سے نکالا تھا۔مسلمانوں نے یہاں آکر پناہ لی تھی اس لئے اب اس حکومت میں رہنے والے اس دشمن قوم سے کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر سکتے اور نہ کوئی مددلیں گے۔ہر قوم اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔یعنی اپنے اپنے خرج خود کریں گے۔اس معاہدے کی رو سے کوئی ظالم یا گناہگار یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہو گا کہ اسے سزا دی جاوے یا اس سے انتقام لیا جاوے۔یعنی جیسا کہ پہلے بھی آچکا ہے کہ جو کوئی ظالم ہوگا، گناہ کرنے والا ہو گا غلطی کرنے والا ہوگا۔بہر حال اس کو سزا ملے گی ، پکڑ ہوگی۔اور یہ بلا تفریق ہوگی ، چاہے وہ مسلمان ہے یا یہودی ہے یا کوئی اور ہے۔پھر اسی مذہبی رواداری اور آزادی کو قائم رکھنے کیلئے آپ نے نجران کے وفد کو مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت دی اور انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی عبادت کی۔جبکہ صحابہ کا خیال تھا کہ نہیں کرنی چاہئے۔آپ نے کہا کوئی فرق نہیں پڑتا۔