مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 135

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 135 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی دومٹی میں ملے اس کی ناک“۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ کس کی ناک مٹی میں ملے ، کون شخص قابل مذمت اور بد قسمت ہے۔آپ نے فرمایا: ” وہ شخص جس نے بوڑھے ماں باپ کو پایا اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔انسان اپنے ماں باپ کے احسان کا جو انہوں نے اس پر بچپن میں کئے ہیں، کا بدلہ اتا رہی نہیں سکتا۔اس لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے، اولا د کو یہ دعا سکھائی ہے کہ والدین کے لئے دعا کرو کہ {وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّينِي صَغِيرًا } بنی اسرائیل : 25 ) کہ اے میرے رب ان پر مہربانی فرما کیونکہ انہوں نے بچپن کی حالت میں میری پرورش کی تھی۔والدین کے لئے یہ جو دعا ہے، یہ دعا کے ساتھ ساتھ بچپن میں والدین کے بچوں پر جو احسان ہوتے ہیں اُن کی بھی یاد دلاتی ہے کہ انسان احسان یاد کر کے دعا کر رہا ہوتا ہے۔قریبی رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں پھر فرمایا کہ قریبی رشتہ داروں سے بھی شفقت اور احسان کا سلوک کرو۔ایک حدیث میں آتا ہے آنحضرت نے فرمایا کہ جو شخص رزق کی فراخی چاہتا ہے یا خواہش رکھتا ہے کہ اس کی عمر اور ذکر خیر زیادہ ہو، لوگ اس کو اچھا سمجھیں۔اسے صلہ رحمی کا خلق اختیار کرنا چاہئے۔رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہئے۔قریبی رشتہ داروں میں، رحمی رشتہ داروں میں، جہاں ماں باپ کے سگے رشتے ہیں یا اپنے سگے رشتے ہیں وہاں بیوی کی طرف سے بھی سگے رشتے ہوتے ہیں۔تو فرمایا کہ ان قریبی رشتوں کا خیال رکھو۔اُن کے حقوق ادا کرو بلکہ ان سے احسان کا سلوک کرو۔اگر کوئی تکلیف دے تب بھی اس سے نیک سلوک کرنے سے ہاتھ نہیں کھینچنا۔ایک صحابی نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں اپنے رشتہ داروں سے بنا کر رکھوں تب بھی وہ تعلق توڑتے ہیں۔حسن سلوک کروں تو بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔نرمی کروں تو جہالت سے پیش آتے ہیں۔آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ پھر یہ حسن سلوک نہ کرو۔آپ نے فرمایا کہ جو تو کہ رہا ہے اگر سچ ہے تو ان پر تیرا احسان ہے۔اور جب تک تو اس حالت میں ہے اللہ ان کے خلاف تیری مدد کرتا رہے گا۔ان کی بدسلوکیاں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔اللہ کا فضل حاصل ہوتا رہے گا۔تم نیکی کرتے جاؤ۔پس رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتے رہنا چاہئے۔رمضان کے دنوں میں دل نرم ہوتے ہیں۔انسان رشتہ داروں سے بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ بعض دفعہ احسان کے رنگ میں بھی سلوک کر رہا ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے