مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 134 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 134

مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم 134 ارشادات حضرت خلیفہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ خطبہ عید فرموده 4 نومبر 2005ء سے اقتباسات * وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَّ بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتْمَى وَالْمَسْكِيْنِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا﴾ (سورة النساء : 37) نماز کا چھوڑنا شرک کے قریب کر دیتا ہے پہلی بات جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور نہ صرف عبادت کرنی ہے بلکہ شرک سے پاک عبادت ہو۔دنیاوی مسائل اور مجبوریاں اور دوسری بعض دلچسپیاں جو ہیں عبادت کے وقتوں سے آگے پیچھے کرنے والی نہ ہو جائیں۔ورنہ یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے جو ایک انسان کے اندر ہوتا ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے حضرت جابر سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو کفر اور شرک کے قریب کر دیتا ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہئے ، اس بات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ میں نماز میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی کرنے والا تو نہیں۔والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں والدین کے ساتھ احسان کرو لیکن احسان کے لفظ سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ میں اس احسان کا بدلہ اتار رہا ہوں جو انہوں نے بچپن میں مجھ پر کیا ہے۔اس احسان کا مطلب ہے کہ ان سے ہمیشہ اچھا سلوک کرو۔دوسری جگہ فرمایا ہے کہ {فَلَا تَقُل لَّهُمَا اُتِ } (بنی اسرائیل :24) یعنی کبھی بھی کسی بات پر بھی، ناپسندیدگی پر بھی ان کو اُف نہ کہنا۔احسان جتانے والا تو احسان جتا دیتا ہے۔یہاں فرمایا کہ احسان جتانا تو ایک طرف رہا تم نے اُف بھی نہیں کہنا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے کہ ”مٹی میں ملے اس کی ناک“،