مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 136 of 251

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ سوم) — Page 136

136 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد پنجم حصہ سوم فرمایا کہ یہ رنگ جاری رکھو اور جب اللہ تعالیٰ کی خاطر یہ احسان کر رہے ہو گے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرے گا۔ہو سکتا ہے اس سلوک کی وجہ سے ہی اُن کی اصلاح ہو جائے۔ایک خاندان تمہارے حسن سلوک کی وجہ سے ہی راہ راست پر آ جائے۔وہ بھی اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لے۔اگر نہیں تو کم از کم جیسا کہ اللہ کے رسول نے فرمایا تم اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کر رہے ہو گے، اس کا فضل حاصل کر رہے ہو گے۔یتامی سے احسان کا سلوک کریں۔۔۔یتیموں سے بھی احسان کا سلوک کرو۔یتیم بھی معاشرے کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کی مدد کرنا ہر ایک کا فرض ہے۔ان کو معاشرے کا فعال حصہ بنانا چاہئے۔آنحضرت نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے آپ نے اپنی انگلیاں سامنے کر کے دکھا ئیں۔تو یہ کہتے ہوئے آپ نے انگلیاں ذرا سا فاصلہ دے کر جیسا کہ میں نے کہا ر کھیں۔(اس موقع پر حضور انور نے بھی اپنی انگلیوں سے ایسے ہی کر کے دکھایا )۔تو یہ ہے یتیم کی پرورش کرنے والے کا مقام۔جیسا کہ میں نے کہا رمضان کے دنوں میں عموماً دل نرم ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے اس طرف بھی توجہ ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں پاکستان میں جو ایک خوفناک زلزلہ آیا، جس سے بہت سارے بچے یتیم ہو گئے ، کئی لوگوں نے مجھے لکھا کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ بچے اپنا لیں، ہم پیشکش کرتے ہیں کہ اتنے بچے سنبھالیں گے۔بہر حال وہ تو حکومت کی پالیسی ہے، کیا بنتی ہے۔لیکن کچھ تازہ تازہ واقعہ کی وجہ سے، کچھ رمضان کی وجہ سے، عبادتوں کی وجہ سے ، اس طرف توجہ بھی تھی تو اگر لے نہیں سکتے تو کم از کم مستقل توجہ دینی چاہئے۔جماعت میں قیموں کی پرورش کا نظام رائج ہے اس میں اللہ کے فضل سے لوگ رقمیں جمع کرواتے ہیں۔تو جن کو اس نیکی کی توفیق ہے کہ وہ اس پرورش کے لئے دے سکیں ان کو اب اس میں با قاعدگی اختیار کرنی چاہئے۔بعض اور ادارے بھی ہیں اگر قابل اعتبار ہوں تو وہاں بھی رقمیں دی جاسکتی ہیں۔دنیا میں ہر جگہ جماعت میں بہت سے قیموں کی پرورش کی جاتی ہے۔تو یہ جاری نیکیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنانے والی ہوتی ہیں۔مساکین سے شفقت اور احسان کریں پھر فرمایا مسکینوں سے بھی احسان اور شفقت کا سلوک کرو۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ اگرتو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے تو مساکین کوکھانا کھا اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے۔اب یہ عید کا دن