مشعل راہ جلد سوم — Page 522
522 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جب باہر سے بعض معززین آیا کرتے تھے یعنی دنیا کے لحاظ سے بڑے لوگ وہ مطالعہ کے لئے آتے تھے سب سے زیادہ وہ قادیان کی سادگی اور غریبانہ زندگی سے متاثر ہوتے تھے اور حقیقت میں کبھی اگر گدڑیوں میں لعل دکھائی دیتے تھے تو قادیان کا وہ زمانہ تھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ( رفقاء) ان گلیوں میں پھرتے اور پرانی اقدار کا نور لئے پھرتے تھے جس سے وہ گلیاں روشن دکھائی دیتی تھیں۔وہ عجیب زمانہ تھا۔بزرگوں کی یاد تازہ رکھنا اور بار بار یاد دلاتے رہنا ایک منظم کوشش چاہتا ہے میں نے بارہا دیکھا کہ کہ باہر سے آنے والے ایک رات بعض دفعہ گزار کر جاتے تھے ان کی کایا پلٹ جاتی تھی ایک دفعہ میرے گورنمنٹ کالج کے ایک دوست جو میرے ساتھ وہاں رہتے تھے جماعت میں اگر کوئی دلچسپی تھی تو میری وجہ سے ایک تعلق تھا مگر دل میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں پیدا ہوئی کہ گویا وہ جماعت کی بحیثیت جماعت قدر کریں اور عزت کریں۔وہ سمجھتے تھے ایک شخص ہے بس اس سے تعلق ہے۔ایک دفعہ ان کو میں نے قادیان بلایا اور غالبا ایک دورا تیں ٹھہرے ہیں وہاں اور جاتی دفعہ ان کی آنکھوں میں آنسو۔کہتے تھے مجھے تو دنیا میں جنت کا آج پتہ لگا ہے کیا ہوتی ہے۔اور وہ غریب لوگ تھے جو بسنے والے ، وہاں کوئی شان و شوکت نہیں تھی یہ اس زمانے کی بات ہے جبکہ قادیان میں گفتی کی دو یا چار کاریں ہوں گی اور وہ بھی جب نکلی تھیں تو احتیاط سے چلا کرتی تھیں کہ لوگوں پر گرد نہ پڑے۔سٹرکیں بھی ٹوٹی پھوٹی ، گڑھوں والی اور غریبانہ زندگی لیکن عظمت کر دار نمایاں تھی اور وہ گلیاں دن کو بھی روشن رہتی تھیں، رات کو بھی روشن رہتی تھیں اور ان میں بھی کبھی کوئی جھجک پیدا نہیں ہوئی دنیا کے سامنے بڑی عزت سے سراٹھا کر چلتے تھے اور جانتے تھے کہ یہی قدریں ہیں جو تحسین کے لائق ہیں باقی دنیا بے چاری محروم ہے۔وہ تکبر سے عاری تھے باقی دنیا کو حقارت سے نہیں دیکھا کرتے تھے عزت سے ملتے تھے ، جھک کر ملتے تھے مگر ان سے متاثر ہوکر نہیں، اپنی اعلیٰ قدروں کی وجہ سے، جنہوں نے انہیں انکسار بھی سکھایا اور بتایا کہ یہ اعلیٰ قدریں تکبر پیدا کرنے کے لئے نہیں بلکہ انکسار پیدا کرنے کے لئے ہیں۔پس (دینی) قدریں ایک ایسی اعلیٰ دولت ہے جیسا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ( دین حق ) نے جو خدا کا تصور پیش کیا ہے یہ اس لائق ہے کہ جان دے کر بھی ملے تو لیا جائے۔یہ ایک انمول خزانہ ہے پس احمدیت کچھ تو عقائد سے وابستہ ہے اور وہ عقائد بھی اللہ کے فضل سے روشن اور زندہ رہنے والے اور