مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 521 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 521

521 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم میں داخل ہوئے ہیں وہ بھی اپنا بہت شاندار ماضی ضرور رکھتے ہیں۔کیونکہ بہت سے افریقن احمدی اور بعض ان میں سفید رنگ کے، سفید فام احمدی بھی ہیں انہوں نے خود ( دین حق ) قبول نہیں کیا ان کے آباؤ اجداد نے قبول کیا اور اس کے نتیجے میں انہوں نے قربانیاں بھی دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت معجزے بھی دیکھے۔چنانچہ ان بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھنا اور بار بار یاد دلاتے رہنا یہ کام ایک منظم کوشش کو چاہتا ہے اس پہلو سے یہاں کے جو رسائل ہیں ان میں یہ ذکر خیر جاری رہنا چاہیے اور آئندہ نسلوں کو ان کے آباؤ اجداد کی باتیں بتاتے رہنا چاہیے کہ انہوں نے کس قیمت پر احمدیت حاصل کی تھی اور کیسی کیسی قربانیاں اس راہ میں دی تھیں۔بہت سے ایسے خاندان میری نظر میں ہیں جن میں یہ کمزوریاں واقع ہوئی ہیں لیکن ان کے آباؤ اجداد نے بہت عظیم الشان قربانیاں دین کو حاصل کر کے اس کو قائم رکھنے کے لئے دیں اور تمام عمر وہ یہ قربانیاں پیش کرتے رہے۔ان کی روحوں کو اگر طمانیت پہنچانی ہے اگر ان سے محبت ہے، ان کے احسانات کا حق ادا کرنا ہے تو سب سے اعلیٰ طریق یہ ہے کہ انہی کی قدروں کو اپنی ذات میں زندہ رکھیں۔ایک نسل جو آکر گزر جاتی ہے وہ کبھی نہیں مرتی اگر ان کی خوبیاں اگلی نسل میں زندہ رکھی جائیں اور ان کی حفاظت کی جائے۔مرتے وہ لوگ ہیں جن کی قدریں ان کے ساتھ مر جاتی ہیں اور قدروں کے ساتھ ہی عزتیں وابستہ ہوتی ہیں، قدروں کے ساتھ ہی محبتیں وابستہ ہوتی ہیں۔اگر ایک انسان غریب ماں باپ کا بیٹا ہو اور ترقی کر جائے اور ماں باپ کی قدریں کھو بیٹھا ہو تو وہ ماں باپ اس پر بوجھ بن جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ان کے ساتھ میرا میل جول، لوگوں کا دیکھنا کہ میرے ماں باپ کسی زمانے کے لوگ ہیں، کیسا رہن سہن ہے، میرے لئے شرمندگی کا موجب ہوگا کیونکہ ان کی نظر میں دنیا کی قدریں بچ جاتی ہیں اور ماں باپ کے اعلیٰ اخلاق اور اُن کے روحانی مقامات ان کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔وہ جن کی نظر میں یہ حقیقت رکھتے ہیں ان کو دنیا کی نظروں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ ان قدروں سے وابستہ ہوتے ہیں۔وہ بڑی عزت اور محبت اور احترام سے ان لوگوں کو ، اپنے بزرگوں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کی عزت کی وجہ سے دنیا بھی ان کا بہت احترام کرتی ہے۔ان کی غربت اور سادگی دنیا کو انہیں چھوٹا نہیں دکھاتی بلکہ اور بڑا کر کے دکھاتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عظمت نہ کپڑوں سے وابستہ ہے، نہ دولت سے وابستہ ہے۔اعلیٰ اقدار ہی سے وابستہ ہے اور اہل نظر پہچانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کون سی باتیں قدر کے لائق ہیں۔اس لئے بعض دفعہ بعض احمدی خاندان بے وجہ خوبیوں سے شرمندہ ہوتے پھرتے ہیں اور بدیوں کو اعزاز سمجھتے ہیں جبکہ دنیا والے جانتے ہیں کہ خوبیاں ہی قابل قدر ہیں اور قابل احترام ہیں۔مجھے یاد ہے قادیان میں