مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 520 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 520

520 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے پیار ہی نہیں عزت کا سلوک بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی نظم وضبط کو بھی قائم رکھتے ہیں وہی ہیں جو کامیاب ہیں اور جن کے متعلق کسی حد تک اطمینان سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ اچھی نسل آگے بھیجیں گے اور اطمینان کے ساتھ خدا کے حضور لوٹیں گے کہ ہماری نسلیں بھی انہی قدروں پر قائم ہیں جو قدریں ہم نے اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں پائی تھیں۔پس اس پہلو سے جواب زیادہ قابل فکر پہلو یہ ہے کہ جو باہر سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور بہت بڑی تعداد ایسوں کی ہے جن کے اقتصادی معیار پہلے بہت چھوٹے تھے اور یہاں آکر دنیا داری کے اثرات ان کے چہروں پر دکھائی دینے لگے ہیں۔بچوں ہی میں نہیں، بعض دفعہ بڑوں میں بھی میں نے دیکھا بعض خواتین آئی ہیں جو ساری عمر ربوہ میں پلنے والی، وہاں پردوں کی پابندی اور حیادار یہاں آتے ہی ان کو پردے سے حیا ہوگئی ہے بجائے غیروں سے حیا کے۔اور برقع معلوم ہوتا تھا وقتی طور پر مجھے دکھانے کے لئے استعمال ہوا ہے اور جب باہر موقع ملا جانے کا برقع اتارا اور بغل میں دبایا اور پھر اسی دنیا میں واپس لوٹ گئیں جہاں سے عارضی طور پر چھٹی لے کر ملنے آئی تھیں۔یہ نظارے بہت ہی تکلیف دہ ہیں میں ان لوگوں کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔غریبانہ زندگی مگر بہت ہی اخلاص تھا اور اخلاص کے نتیجے میں وہ روحانی طور پر بہت امیر لوگ تھے۔تو جو دولت رکھنے کے لائق تھی وہ تو پھینک دی اور جو بے اعتنائی کے لائق تھی اس کے غلام بن گئے یہ کوئی اچھا سودا نہیں ہے۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت امریکہ کو با قاعدہ منصوبہ بنا کر مزید اصلاح کی کوشش کرتے رہنا چاہیے اور ان لوگوں کو اپنے آباؤ اجداد کی یادیں زندہ رکھنے میں مدد دینی چاہیے۔یہ ایک بہت ہی اہم کام ہے جس کی طرف میں نے ایک دفعہ افریقہ کے دورے میں توجہ دلائی تھی اور بعض ملکوں نے اس پر عمل درآمد بھی کیا اور بہت فائدہ پہنچا۔ان لوگوں کو ان کے آباؤ اجداد کا روشن ماضی بتایا جائے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ان خاندانوں کو جو بہت بزرگ لوگوں کی اولاد تھے۔مشہور نہیں بھی تھے تو بزرگ تھے۔سادہ، غریبانہ کپڑوں میں پھرنے والے اہل اللہ لوگ تھے۔جن کی دعائیں قبول ہوتی تھیں۔جن پر دن رات اللہ تعالیٰ کی قربت کے نشان اترا کرتے تھے۔ان لوگوں کی نسلوں کو ان کے آباء واجداد کا روشن ماضی بتا ئیں تا کہ اس روشنی سے کچھ حصہ لے کر ان کا حال روشن ہو جائے۔ہم میں سے وہ لوگ جو پاکستان سے یہاں آباد ہوئے ہیں وہ بھی اور وہ لوگ بھی جو یہاں ( دین حق )