مشعل راہ جلد سوم — Page 519
مشعل راه جلد سوم 519 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ۔آتے رہے جن کے بڑے تو اسی طرح اخلاص میں قائم رہے مگر نسلیں ہاتھوں سے پھسل گئیں اور واپس دنیا داری کی طرف لوٹ گئیں۔بعض ایسے بھی واقعات ہوئے جو بہت تکلیف دہ تھے کہ اگر عیسائیت سے وہ خاندان آیا تو اگلی نسل رفته رفتہ سرکتی ہوئی واپس عیسائیت میں چلی گئی۔اس سے معلوم ہوتا تھا کہ باشعور طور پر انہیں اپنے ساتھ لگائے رکھنے کی کوشش نہیں ہوئی۔اور جو خاندانی تعلقات کے (دینی) تصورات ہیں ان کے مطابق خاندانی تعلقات کو ڈھالا نہیں گیا ورنہ یہ ناممکن ہے کہ ماں باپ (دینی) قدروں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے بچوں سے پیارا ور تعلق رکھیں، انہیں اپنے قریب کریں اور اپنے گھروں کو ان کی دلچسپیوں کا مرکز بنا ئیں اور پھر بھی وہ بچے سرک کر باہر نکل جائیں ، یہ فطرت کے خلاف بات ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ کیسی ہی زہریلی سوسائٹی کیوں نہ ہو جہاں خاندانوں کے تعلقات (دینی) اقدار کے مطابق باندھے جاتے ہیں اور انہیں قائم رکھا جاتا ہے وہاں اگلی نسلیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ محفوظ رہتی ہیں اور باہر سے زیادہ ان کا دل گھر میں لگتا ہے۔پس اس پہلو سے میں نے دیکھا ہے کہ امریکہ میں بہت ہی اچھے آثار ظاہر ہورہے ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی جو امریکن بچے یعنی پاکستان سے آکر بسے ہوئے امریکن نہیں بلکہ یہیں کی زمین کی پیداوار اور یہیں پلنے والے بچے اللہ کے فضل سے ایسا گہرا تعلق رکھنے لگ گئے ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور ان کی محبت آئندہ ( دین حق) کے خوش آئند مستقبل کی ضمانت دے رہی تھی۔پس اس پہلو سے ابھی ہمیں اور کام کرنے کی ضرورت ہے احمدی خاندانوں میں جو باہر سے آکر یہاں بسے ہیں ان میں بھی مزید اس پہلو سے اصلاح کی ضرورت ہے۔بہت سے بچے میں نے ان میں سے ایسے دیکھے ہیں جن کی نظروں میں غیریت آچکی تھی۔جن میں معلوم ہوتا تھا کہ وہ مل کر کچھ اثر قبول کر رہے ہیں لیکن ماں باپ کے دباؤ کے نیچے یا مشوروں کے مطابق منت سماجت کے نتیجے میں وہ اس موقع پر پہنچ گئے ہیں مگر خود دل کے شوق سے نہیں آئے اور ان کی اجنبیت ان کے لباس، ان کے رنگ ڈھنگ، ان کے اٹھنے بیٹھنے، ان کے دیکھنے کی طرز سے بالکل ظاہر ہوتی تھی۔تو ایسے موقعوں پر میں کوشش تو کرتا ہوں کہ ان سے ذاتی تعلق قائم ہو اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی آنکھوں میں بسا اوقات ملاقات کے ختم ہونے سے پہلے پہلے ہی پاک تبدیلیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔مگر یہ چندلمحوں کا کام نہیں اس کے لئے لمبی محنت کی ضرورت ہے، حکمت کی ضرورت ہے۔