مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 409 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 409

409 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ایسے واقفین اگر جامعہ میں آجائیں گے تو جامعہ میں تو کوئی ایسا جادو نہیں ہے کہ پرانے بگڑے ہوئے رنگ اچانک درست ہو جائیں۔ایسے رنگ درست ہوا کرتے ہیں غیر معمولی اندرونی انقلابات کے ذریعہ۔وہ ایک الگ مضمون ہے۔ہم ایسے انقلابات کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے لیکن یہ دستور عام نہیں ہے۔اس لئے ہم جب حکمت کے ساتھ اپنی زندگی کے پروگرام بناتے ہیں تو اتفاقات پر نہیں بنایا کرتے بلکہ دستور عام پر بنایا کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے بچوں کو بہت گہری تربیت دینے کی ضرورت ہے۔مالی امور میں خصوصی احتیاط کی تعلیم پھر عمومی تعلیم میں واقفین بچوں کی بنیاد وسیع کرنے کی خاطر جو ٹائپ سیکھ سکتے ہیں ان کو ٹائپ سکھانا چاہیے۔اکاؤنٹس رکھنے کی تربیت دینی چاہیے دیانت پر جیسا کہ میں نے کہا تھا بہت زور ہونا چاہیے۔اموال میں خیانت کی جو کمزوری ہے یہ بہت ہی بھیانک ہو جاتی ہے اگر واقفین زندگی میں پائی جائے۔اس کے بعض دفعہ نہایت ہی خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔وہ جماعت جو خالصۂ طوعی چندوں پر چل رہی ہے اس میں دیانت کو اتنی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔گویا دیانت کا ہماری شہ رگ کی حفاظت سے تعلق ہے۔سارا مالی نظام جو جماعت احمدیہ کا جاری ہے وہ اعتماد اور دیانت کی وجہ سے جاری ہے۔اگر خدانخواستہ جماعت میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ واقفین زندگی اور سلسلہ کے شعبہ اموال میں کام کرنے والے خود بددیانت ہیں تو ان کو چندے دینے کی جو توفیق نصیب ہوتی ہے اس توفیق کا گلا گھونٹا جائے گا۔لوگ چاہیں گے بھی تو پھر بھی ان کو واقعہ چندہ دینے کی توفیق نہیں ملے گی۔اس لئے واقفین کو خصوصیت کے ساتھ مالی لحاظ سے بہت ہی درست ہونا چاہیے اور اس لحاظ سے اکاؤنٹس کا بھی ایک گہرا تعلق ہے۔جو لوگ اکاؤنٹس نہیں رکھ سکتے ان سے بعض دفعہ مالی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بد دیانتی ہوئی ہے اور بعض دفعہ مالی غلطیوں کے نتیجہ میں وہ لوگ جن کو اکاؤنٹس کا طریقہ نہ آتا ہو بد دیانتی کرتے ہیں اور افسر متعلقہ اس میں ذمہ دار ہو جاتا ہے۔وہ لوگ جو اموال پر مقرر ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کا مالی لحاظ سے دیانت کا معیار جماعت احمدیہ میں اتنا بلند ہے کہ دنیا کی کوئی جماعت بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن خرابیاں پھر بھی دکھائی دیتی ہیں۔عمد ابددیانتی کی مثالیں تو بہت شاذ ہیں یعنی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں۔لیکن ایسے واقعات کی مثالیں بہت سی ہیں ( یعنی بہت سی سے مراد یہ ہے کہ مقابلہ بہت ہیں) کہ جن میں ایک شخص کو حساب رکھنا نہیں آتا ، یک شخص کو یہ نہیں پتہ کہ میں دستخط کرنے لگا ہوں تو اس کے نتیجہ میں میری کیا ذمہ داری ہے؟ مجھے کیا دیکھنا