مشعل راہ جلد سوم — Page 408
408 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم تھا تو فون پر پوچھا کہ اتنے ہزار روٹی پک چکی ہے؟ تو جواب ملا کہ جی ہاں پک چکی ہے۔اس پر تسلی ہو گئی۔جب وہاں پہنچا تو پتہ لگا کہ ابھی کئی ہزار کی کمی ہے۔میں نے کہا آپ نے یہ کیا ظلم کیا ہے۔یہ جھوٹ بولا ، غلط بیانی کی اور اس سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔کہنے لگے کہ نہیں جی۔جب میں نے بات کی تھی اس سے آدھا گھنٹہ پہلے اتنے ہزار ہو چکی تھی تو آدھے گھنٹے میں اتنی تو ضرور بنی چاہیے تھی۔یہ فارمولا تو ٹھیک ہے۔لیکن واقعاتی دنیا میں فارمولے تو نہیں چلا کرتے۔واقعہ ایسی صورت میں یہ بات نکلی کہ وہاں کچھ خرابی پیدا ہوگئی۔مزدوروں کی آپس میں کوئی لڑائی ہوگئی، گیس بند ہوگئی۔کئی قسم کی خرابیاں ایسی پیدا ہو جاتی تھیں تو جس آدھے گھنٹے میں اس نے کئی ہزار کا حساب لگایا ہوا تھا وہ آدھا گھنٹہ کام ہی نہیں ہورہا تھا۔تو یہ عادت عام ہے۔میں نے اپنے وسیع تجربے میں دیکھا ہے کہ ایشیا میں خصوصیت کے ساتھ یہ عادت بہت زیادہ پائی جاتی ہے کہ ایک چیز کا اندازہ لگا کر اس کو واقعات کے طور پر بیان کر دیتے ہیں اور واقفین زندگی میں بھی یہ عادت آجاتی ہے۔یعنی جو پہلے سے واقفین آئے ہوئے ہیں ان کی رپورٹوں میں بھی بعض دفعہ ایسے نقص نکلتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے اس بات کی بچپن سے عادت ڈالنی چاہیے کہ جتنا علم ہے اس کو علم کے طور پر بیان کریں۔جتنا اندازہ ہے اس کو اندازے کے طور پر بیان کریں اور اگر بچپن میں آپ نے یہ عادت نہ ڈالی تو بڑے ہو کر پھر دوبارہ بڑی عمر میں اسے رائج کرنا بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں انسان بغیر سوچے کرتا ہے۔عادت کا مطلب ہی یہ ہے کہ خود بخو دمنہ سے ایک بات نکلتی ہے اور یہ بے احتیاطی بعض دفعہ پھر انسان کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاتی ہے اور بڑی مشکل صورت حال پیدا کر دیتی ہے۔کیونکہ ایسے لوگوں میں سے بہت سے میں نے ایسے دیکھے ہیں کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ کیوں کیا؟ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف بیان کریں کہ ہم سے غلطی ہو گئی ، ہم نے اندازہ لگایا تھا، وہ اپنی پہلی غلطی کو چھپانے کے لئے دوسری دفعہ پھر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی ایسا ذ ر تلاش کرتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جب اس غذ رکو پکڑیں تو پھر ایک اور جھوٹ بولتے ہیں۔خجالت الگ ،شرمندگی الگ ،سب دنیا ان پر ہنس رہی ہوتی ہے اور وہ بیچارے جھوٹ پر جھوٹ بول کر اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ چیزیں بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جب کسی بات پر گھر میں پکڑے جاتے ہیں کہ آپ نے یہ کہا تھا یہ نہیں ہوا ، اس وقت وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ماں باپ اُس کا نوٹس نہیں لیتے۔اس کے نتیجہ میں مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ ایسے بگڑتے ہیں کہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے۔عادتا وہ یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔یعنی جھوٹ نہیں ہوا کرتا ، عادت ہے کہ تخمینے یا اندازے کو حقیقت بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔تو