مشعل راہ جلد سوم — Page 410
410 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم چاہیے؟ جس کو جمع تفریق نہیں آتی اس بیچارے کے نیچے بعض دفعہ بددیانتیاں ہو جاتی ہیں اور بعد میں پھر الزام اس پر لگتے ہیں اور بعض دفعہ تحقیق کے نتیجہ میں وہ بری بھی ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ معاملہ الجھا ہی رہتا ہے۔پھر ہمیشہ ابہام باقی رہ جاتا ہے کہ پتہ نہیں بددیانت تھا یا نہیں۔اس لئے اکاؤنٹس کے متعلق تمام واقفین بچوں کو شروع سے ہی تربیت دینی چاہیے۔تبھی میں نے حساب کا ذکر کیا تھا کہ ان کا حساب بھی اچھا ہو اور ان کو بچپن سے تربیت دی جائے کہ کس طرح اموال کا حساب رکھا جاتا ہے۔روز مرہ سودے کے ذریعہ سے ہی ان کو یہ تربیت دی جاسکتی ہے اور پھر سودا اگر ان کے ذریعے کبھی منگوایا جائے تو اس سے ان کی دیانتداری کی نوک پلک مزید درست کی جاسکتی ہے۔مثلاً بعض بچوں سے ماں باپ سودا منگواتے ہیں تو وہ چند پیسے جو بچتے ہیں وہ جیب میں رکھ لیتے ہیں، بددیانتی کے طور پر نہیں اُن کے ماں باپ کا مال ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ پیسے کیا واپس کرنے ہیں۔وہ وقت ہے تربیت کرنے کا۔اس وقت ان کو کہنا چاہیے کہ سودا منگوانے میں اگر ایک دھیلا، ایک دمڑی بھی باقی بچی ہو تو واپس کرنی چاہیے۔پھر ہے دھیلے کی بجائے دس روپے مانگو، اسکا کوئی حرج نہیں۔لیکن بغیر بتائے کے جو دھیلا جیب میں ڈالا جاتا ہے کہ یہ بیچ گیا تھا، اس کا کیا واپس کرنا تھا۔اس نے آئندہ بدیانتی کے بیج بو دیئے ہیں، آئندہ بے احتیاطیوں کے بیج بودیئے ہیں۔تو قو میں جو بگڑتی اور بنتی ہیں وہ دراصل گھروں میں ہی بگڑتی اور بنتی ہیں۔ماں باپ اگر بار یک نظر سے اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہوں تو وہ عظیم مستقبل کی تعمیر کر رہے ہوتے ہیں یعنی بڑی شاندار قو میں ان کے گھروں میں تخلیق پاتی ہیں۔لیکن یہ چھوٹی چھوٹی بے احتیاطیاں بڑے بڑے عظیم اور بعض دفعہ سنگین نتائج پر منتج ہو جایا کرتی ہیں۔پس مالی لحاظ سے واقفین بچوں کو تقویٰ کی باریک راہیں سکھائیں۔یہ جتنی باتیں میں کہ رہا ہوں ان سب کا اصل میں تقویٰ سے تعلق ہے۔تو تقویٰ کی کچھ موٹی راہیں ہیں جو عام لوگوں کو آتی ہیں۔کچھ مزید باریک ہیں اور واقفین کو ہمیں نہایت لطیف رنگ میں تقویٰ کی تربیت دینی چاہیے۔اس کے علاوہ واقفین بچوں میں سخت جانی کی عادت ڈالنا، نظام جماعت کی اطاعت کی بچپن سے عادت ڈالنا، اطفال الاحمدیہ سے وابستہ کرنا، ناصرات سے وابستہ کرنا ، خدام الاحمدیہ سے وابستہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔انصار اللہ کی ذمہ داری تو بعد میں آئے گی لیکن ۱۵ سال کی عمر تک، خدام کی حد تک تو آپ تربیت کر سکتے ہیں۔خدام کی حد تک اگر تربیت ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر انصار کی عمر میں بگڑنے کا امکان شاذ کے