مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 407 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 407

407 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم چاہیے کیونکہ سکولوں میں تو اتنا زیادہ انسان کے پاس اختیار نہیں ہوا کرتا۔یعنی بچہ پانچ مضمون، چھ مضمون ، سات مضمون رکھ لے گا بعض دس بھی رکھ لیتے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں جا سکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو اپنے تدریسی مطالعہ کے علاوہ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔اب یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے واقفین زندگی بچوں کے والدین میں سے اکثر کے بس کی نہیں۔میں جانتا ہوں کہ بہت سے بیچارے ایسے ہیں، افریقہ میں بھی اور ایشیا، یورپ اور امریکہ میں بھی جن کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ اس پروگرام کو وہ واقعہ عملی طور پر اپنے بچوں میں رائج کر سکیں۔اس لئے یہ جتنی باتیں ہیں تحریک جدید کے متعلقہ شعبہ کو یہ نوٹ کرنی چاہئیں اور اس خطبہ میں جو نکات ہیں ان کو آئندہ جماعت تک اس رنگ میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہیے کہ والدین کی اپنی کم علمی اور اپنی استطاعت کی کمی بچوں کی اعلی تعلیم کی راہ میں روک نہ بن سکے۔چنانچہ بعض جگہوں پر ایسے بچوں کی تربیت کا انتظام شروع ہی سے جماعت کو کرنا پڑے گا۔بعض جگہ ذیلی تنظیموں سے استفادے کئے جاسکتے ہیں، مگر یہ بعد کی باتیں ہیں۔اس وقت تو جو ذہن میں چند باتیں آرہی ہیں وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ ہمیں کس قسم کے واقفین بچے چاہئیں۔منضبط رویہ اپنانے کی تربیت ایسے واقفین بچے چاہئیں جن کو شروع ہی سے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی عادت ہونی چاہیے، جن کو اپنے سے کم علم کو حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے، جن کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ مخالفانہ بات سنیں اور حمل کا ثبوت دیں۔جب ان سے کوئی بات پوچھی جائے تو محمل کا ایک یہ بھی تقاضا ہے کہ ایک دم منہ سے کوئی بات نہ نکالیں بلکہ کچھ غور کر کے جواب دیں۔یہ ساری ایسی باتیں ہیں جو بچپن ہی سے طبیعتوں میں اور عادتوں میں رائج کرنی پڑتی ہیں۔اگر بچپن سے یہ عادتیں پختہ نہ ہوں تو بڑے ہو کر بعض دفعہ ایک انسان علم کے ایک بہت بلند معیار تک پہنچنے کے باوجود بھی ان عام سادہ سادہ باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو فوراً جواب دیتا ہے خواہ اس بات کا پتہ ہو یا نہ ہو۔پھر بعض دفعہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک بات پوچھی اور جس شخص سے پوچھی گئی ہے اس کے علم میں یہ تو ہے کہ یہ بات ہونے والی تھی لیکن یہ علم میں نہیں ہے کہ ہو چکی ہے۔اس کے باوجود بسا اوقات وہ کہ دیتا ہے کہ ہاں ہو چکی ہے۔واقفین زندگی کے اندر یہ چیز بہت بڑی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔میں نے اپنے انتظامی تجر بہ میں بارہا دیکھا ہے کہ اس قسم کی خبروں سے بعض دفعہ بہت سخت نقصان پہنچ جاتا ہے۔مثلالنگر خانے میں میں ناظم ہوتا