مشعل راہ جلد سوم — Page 372
372 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم ماں باپ بچوں کی بھول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کو یاد کروانا شروع کریں کہ دنیا میں خدا کے بندے ایسے بھی ہیں جو شدید بھوک میں مبتلا ہیں فاقہ کشی کر رہے ہیں ان کی غربت کا یہ حال ہے وغیرہ۔ایسی باتیں کرنی شروع کریں تو ان کے دل میں ہمدردی کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں اور پھر ان کو صدقات کی طرف متوجہ کریں اور ان سے کچھ لے کر صدقات کی مد میں دیں۔بچے بہت ہی جلدی اثر قبول کرتے ہیں۔بعض دفعہ اتنا قبول کرتے ہیں کہ انسان سمجھتا ہے کہ جتنی ضرورت تھی اس سے زیادہ انہوں نے رد عمل دکھایا ہے۔بعض دفعہ وہ اپنا سب کچھ پیش کرنے کے لئے فوراً آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے آپ بچوں پر اعتماد کریں خدا تعالیٰ نے ان کے اندر نیکی کا بیچ رکھا ہے نیکی کی نشو و نما کے لئے بڑی زرخیر مٹی عطا فرمائی ہے خواہ مخواہ لاعلمی کے نتیجہ میں یا عدم توجہ کے نتیجہ میں رمضان آتا ہے اور چلا جاتا ہے اور آپ اس کو ضائع کر دیتے ہیں اور آپ کے بچے وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں، بعد میں جب رمضان گزر جاتا ہے اس وقت صرف روزے رکھنا کام نہیں آتا کیونکہ روزوں کا وقت گزر چکا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ بس روزے گئے اور سب باتیں ساتھ ختم ہو گئیں لیکن جو نماز میں آپ ان کو پڑھا دیں گے جو تہجد پڑھائیں گے جو سورتیں یاد کرائیں گے غریب کی جو ہمدردی ان کے دل میں پیدا کریں گے یہ رمضان کے ساتھ چلی جانے والی باتیں نہیں ہیں یہ ان کی زندگی کا حصہ بن جائیں گی ان کی زندگی کا سرمایہ بن جائیں گی۔اس لئے رمضان کو اولاد کی تربیت کے لئے خصوصیت سے استعمال کریں۔بچپن کی تربیت دائمی نقش چھوڑ جاتی ہے علاوہ ازیں بعض چیزوں سے منع ہونے کا حکم ہے وہ ساری باتیں وہی ہیں جن سے روز مرہ کی زندگی میں بھی پر ہیز لازم ہے مثلاً جھوٹ ہے لغو بیانی ہے وقت کا ضیاع ہے لیکن بعض چیز میں روزہ مرہ کی زندگی میں کسی حد تک قابل قبول ہو جاتی ہیں۔اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان ہر چیز کو اپنے بہترین معیار کے مطابق ہر روز ادا کر سکے۔لیکن رمضان المبارک میں جب معیار بلند کیا جاتا ہے تو مراد یہ ہے کہ جب رمضان گزر جائے تو معیار گرے بھی تو اتنا نہ گرے کہ پہلی سطح پر آپ واپس آجائیں بلکہ سطح بلند ہو جائے اس لئے انفرادی طور پر جب آپ بچوں کو ان امور کی طرف متوجہ کریں گے کہ آپ نے جھوٹ نہیں بولنا تو یہ کہ کر متوجہ کرنا ہے کہ جھوٹ تو رمضان کے بعد بھی نہیں بولنا لیکن رمضان میں اگر بولا تو پھر کچھ بھی حاصل نہیں ، تمہارے بھوکے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے جب آپ رمضان کے 30 دن ان کو جھوٹ نہ بولنے کی اہمیت یاد