مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 373

373 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دلاتے ہیں تو ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے رہیں کہ رمضان تو ایسی برکتوں کا مجموعہ ہے۔جو ایک مہینے کے اندر ختم نہیں ہوتیں بلکہ یہ دن سارے سال کے لئے تمہارے لئے ایک خزانہ لے کر آتے ہیں۔اور ایسا رزق عطا کر جاتے ہیں جسے تم سارا سال کھاؤ۔جھوٹ نہ بولنے کا یہ مطلب ہے کہ رمضان تمہیں متوجہ کر رہا ہے اور رمضان کے گزرنے کے بعد بھی جھوٹ نہیں بولنا اور اس بات کی کوشش کرو کہ جب بھی جھوٹ کی طرف ذہن جائے تو یاد کیا کرو کہ آج تو رمضان ہے اور جب رمضان کا سوچو گے تو ساتھ یہ بھی سوچا کرو کہ یہ تو پریکٹس کا وقت ہے آئندہ بھی جھوٹ نہیں بولنا۔اس طرح پیار کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتیں بچوں کو سمجھائیں جائیں تو وہ سمجھتے ہیں اور بعض دفعہ اس کو اچھی طرح سے مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔میرا ذاتی طور پر یہی تجربہ ہے کہ بہت سی ایسی باتیں جو بچپن میں اس طرح سمجھائی گئیں وہ ہمیشہ کے لئے دل پرنقش ہو گئیں۔اور بعد میں آنے والی جو بڑی بڑی نصیحتیں ہیں وہ اتنا گہرا اثر نہیں کر سکیں جتنا بچپن کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو دل پر اثر کر جاتی ہیں وہ ایک نقش دوام بن جاتی ہیں اس لئے اس عمر سے آپ کو استفادہ کرنا چاہیے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ توجہ دلائی تھی کہ آپ اپنی زندگی پر غور کر کے دیکھیں آپ کی بہت سی خوبیاں جو خدا نے آپ کو عطا کی ہیں ان کی بنیادیں بچپن میں ڈالی گئی ہیں۔جو رسوم ایک دفعہ دل پر مرتسم ہو جائیں یا جو تحریریں بچپن میں لکھی جائیں وہ وقت کے ساتھ مٹنے کی بجائے مضبوط ہوتی چلی جاتی اور زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔بعد کے زمانے میں تحریریں بنتی بھی ہیں اور مٹ بھی جاتی ہیں لیکن بچپن میں خدا تعالیٰ نے یہ خاص بات رکھی ہے چنانچہ وہ لوگ جو بعد میں ذہنی طور پر بیمار ہو جاتے ہیں ان کی یادداشت نہیں رہتی ایسے بیمار سے آپ بات کر کے دیکھیں اس کل کی بات یاد نہیں ہوگی آج کی بات بھی یاد نہیں ہو گی لیکن بچپن کی باتیں ساری یاد ہوں گی اور ایسی وضاحت کے ساتھ یاد ہوتی ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔اس سے اس وقت جب آپ بچپن کی باتیں کر رہے ہوں آپ و ہم بھی نہیں کر سکتے کہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے۔لیکن جب وہ آپ سے سوال کرے گا کہ تو نے مجھے کھانا کھلا دیا ؟ حالانکہ آدھا گھنٹہ پہلے آپ نے کھانا کھلایا ہوگا یا وہ کہے گا پانی پلا دیا تھا ؟ حالانکہ آپ نے پانی بھی پلایا ہو گا تب آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیا با تیں کر رہا ہے اس کا ذہن فوری باتیں یا درکھنے کے قابل ہی نہیں رہا۔تو اس لحاظ سے خدا تعالیٰ نے خصوصیت سے یادوں میں یہ سلسلہ پیدا کیا ہے کہ بچپن کی یاد میں وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہیں ملتی نہیں ہیں۔اور یادوں سے مراد وہ یادیں ہیں جن کا تعلق محض دماغ سے نہ ہو دل سے ہو گیا ہو۔