مشعل راہ جلد سوم — Page 371
371 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دیتی ہیں مثلاً ہوسکتا ہے انگلستان کی جماعت فوری طور پر بچوں کے لئے کچھ سورتیں چن کر ان کی اشاعت کا انتظام کرے اور ان کا ترجمہ ساتھ شائع کر دے۔بعض دفعہ رومن (Roman) طرز تحریر میں اس کا تلفظ ادا کرنے کی بھی کوشش کی جاسکتی ہے مگر قرآن کریم ایسی چیز ہے جس میں تلفظ میں بہت زیادہ احتیاط چاہیے اس لئے محض رومن طرز تحریر میں اس کا تلفظ لکھنے پر آپ اکتفانہ کریں۔بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ اس طریق پر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تلفظ آ گیا ہے بالکل غلط بھی پڑھ لیتے ہیں۔عربی زبان تو ایسی ہے جہاں زیرز بر کی غلطی یا لمبا اور چھوٹا کرنے کی غلطی کے نتیجہ میں مضمون بالکل بدل جاتا ہے۔اس لئے بچوں کو جو سورتیں بھی آپ یاد کروانا چاہیں توجہ سے یاد کروائیں گھروں میں خود یاد کروانی پڑیں گی۔اگر گھروں میں ماں باپ کو توفیق نہیں تو جماعتوں کو ایسے چھوٹے چھوٹے مراکز بنا دینے چاہئیں جہاں زیادہ بوجھ ڈالے بغیر رمضان شریف میں چند سورتیں یاد کروائی جاسکیں اور ان کا تلفظ بھی اچھی طرح سکھایا جاسکے۔رمضان المبارک میں تربیت اولاد پر خاص زور دیں رمضان میں جو مثبت اقدار ہیں ان میں ایک تو نوافل ہیں جن کا رمضان سے گہرا تعلق ہے۔دوسرے صدقات ہیں جن کے ذریعہ غریب کی ہمدردی کی جاتی ہے۔یہ مضمون بھی بدقسمتی سے ان علاقوں میں یعنی مغرب کے علاقوں میں فراموش ہو جاتا ہے کیونکہ اکثر ایسا معاشرہ ہے جس کی ضرورتیں حکومتیں پوری کر دیتی ہیں۔پس غربت کا جو تصور ہمارے ہاں ملتا ہے وہ یہاں دیکھنے میں نہیں آتا۔جو غریب ہیں وہ اور طرح کے غریب ہیں کچھ ایسے غریب ہیں جن کو ڈرگز (Drugs) کی لت پڑ گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ فاقہ کش بن گئے ہیں۔لیکن ڈرگز نہیں چھوڑیں گے یا شراب کے متوالے ہیں۔ان کا حال یہ ہے کہ ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب میں یہاں طالب علم تھا تو ایک شخص جو زمین پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا اس کو میں نے کچھ پیسے دیئے۔میں یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ پیسے لیتے ہی وہ فورا یعنی شراب خانے میں داخل ہو گیا جو اس کے پاس ہی تھا۔بعد میں مجھے بعض دوستوں نے بتایا کہ یہ تو بیٹھتے ہی (Pub) یب کے اردگرد ہیں تا کہ جو خیرات ملے اس کی کچھ شراب لے کر پی لیں۔پس ایسے بھی غریب ہیں لیکن ہم تو ایسے غریبوں کے لئے صدقہ و خیرات نہیں کرتے جن کا ہمیں علم ہو کہ انہوں نے اپنی جان پر ظلم کرنا ہے ہاں لاعلمی میں ایسا ہو جائے تو الگ بات ہے۔تاہم یہ بات تو واضح ہے کہ ایسے ممالک میں صدقہ و خیرات کی اہمیت کا احساس نہیں رہتا اور ذاتی طور پر غریب کی جو ہمدردی پیدا ہوتی ہے اس میں کمی آجاتی ہے۔لیکن اگر