مشعل راہ جلد سوم — Page 111
مشعل راه جلد سوم 111 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی احمدی طلبہ کو نصیحت پس زمانہ اُس خدا کی طرف لوٹ رہا ہے جس کی طرف بلانے کے لئے ہم مقرر کئے گئے تھے۔دہریے اس خدا کی طرف واپس آرہے ہیں اور احمدی طالب علم بے کار، ناواقف اور غافل بیٹھا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو چنا تھا۔آپ کی ہدایت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث فرمائے گئے۔حضور علیہ السلام نے یہ اعلان فرمایا اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے۔اتنے وعدوں اور اتنی خوشخبریوں کے باوجوداگر آپ اپنے کام سے غافل ہوں یا اُس وقت اس کام میں دلچسپیاں لیں جب غیر آگے نکل چکا ہو۔جو میدان آپ کے لئے قائم ہوئے تھے ان پر غیر قدم مار چکے ہوں اور پھر آپ یہ کہیں کہ اب اس بات کا کرنا فیشن ہے۔اس سے پہلے خدا کی بات بے وقوفی کی بات تھی۔تو یہ کیسی جہالت کی بات ہوگی۔ابھی دیر نہیں گزری۔اس لئے آپ میں سے ہر ایک کو لازما اپنے مضمون کا تعلق اپنی دینی معلومات کے ساتھ کرنا چاہیے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو دینی معلومات بڑھانی پڑیں گی۔قرآن کریم سے پیار کرنا پڑے گا۔اس سے محبت کرنی پڑے گی۔محبت کے بغیر قرآن کریم اپنے معنی آپ کو نہیں دے گا۔یہ ایک زندہ کتاب ہے۔یہ کوئی مردہ کتاب تو نہیں۔اور زندہ چیز یونہی بے وجہ مفت میں اپنی چیزیں نہیں لٹاتی پھرتی۔جو اس سے پیار کرتا ہے اس کو فائدہ دیتی ہے۔جو پیار نہیں کرتا اس کو نہیں دیتی۔پس قرآن کریم کا اپنے پڑھنے والوں سے بھی یہی سلوک ہے۔جو لوگ محبت کرتے ہیں قرآن ان کو نہ ختم ہونے والے تھے دیتا چلا جاتا ہے۔جو سرسری نظر سے بیکار سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں۔ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں ملتا۔صرف سرسری سی ملاقات ہی ہوتی ہے۔اس لئے آپ قرآن کا با قاعدہ مطالعہ جاری رکھیں۔اسی طرح اپنے مضمون کا بھی مطالعہ رکھیں اور اس موضوع پر آپس میں گفتگو کیا کریں اور اپنی مجالس میں پیپرز پڑھا کریں لیکن انکسار کے ساتھ۔آپ ایسی تحدی نہ کیا کریں کہ جو ہم نے پالیا ہے وہ ضرور درست ہی ہے۔یہ نہ ہو کہ سائنس کے لحاظ سے بھی آپ مُخرَج ہو جائیں اور مذہب کے لحاظ سے بھی مُخرج شمار ہونے لگ جائیں۔نہ مذہب کا پورا علم ہو اور وہاں آپ دعوی کر بیٹھیں اور نہ سائنس کا پورا علم ہوا اور آپ وہاں دعوی کر بیٹھیں۔اس لئے طمح نظر بلند رکھیں۔محنت و لگن کی عادت ڈالیں لیکن عام زندگی میں انکساری اختیار کریں۔دلائل میں بلند معیار قائم کریں اور اس میں آخری بات جو بہت ضروری ہے جس سے میں نے بہت فائدہ اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ اپنا