مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 477
477 فرموده ۱۹۷۸ء دو مشعل راه جلد دوم و عمل میں دنیا سے بہت آگے نکل گئے ہیں لیکن اے میرے پیارے بچو! وہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔تمہیں پتہ ہے وہ کیوں انتظار کر رہے ہیں؟ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی عقلیں تو ہو گئیں ناکام۔اب ان کی عقلوں کو روشنی اور جلا دینے کے لئے دین اسلام کی ضرورت ہے۔اس لئے آج جو بچے ہیں اگلے آٹھ دس سال میں ان کو خوب دین کا علم سکھا کہ اُن کے پاس بھیجیں تا کہ وہ ان کے مسائل جن کو ان کی عقلیں سلجھا نہیں سکیں، وہ جاکر دین کی تعلیم کی روشنی میں سمجھائیں کہ کس طرح وہ اپنے مسائل کو حل کریں۔پس وہ لوگ تو تمہاری انتظار میں ہیں اور تم نے اگر اس طرف توجہ نہ دی تو پھر یہ خلا کس طرح پورا ہو گا۔تم میں کچھ بچے تو توجہ دیتے ہوں اور کچھ توجہ نہیں دیتے ہوں گے۔میں نے ایسے کم عمر احمدی بچے یہاں بھی اور یورپ میں بھی دیکھے ہیں جو نماز فرفر سناتے ہیں۔پیرس میں ایک مسلمان کہنے لگا میں تو دیکھتا ہوں بڑے بڑے لوگوں کو کلمہ بھی ٹھیک طرح نہیں آتا۔نماز کے معنے نہیں آتے۔وہ جس آدمی سے بات کر رہا تھا۔وہ اتفاقاً احمدی تھا اس نے ایک احمدی بچے کو بلایا اور اس نے کہا کلمہ سناؤ نماز سناؤ۔اس نے سنانا شروع کر دیا۔وہ حیران ہو کر کہنے لگا اچھا۔اس قسم کے بچے بھی ہیں دنیا میں۔اس نے کہا ہاں یہ احمدی بچہ ہے تو پھر اسے پتہ لگا کہ وہ احمدی بچے سے باتیں کر رہا ہے۔کر تم احمدی بچے ہو غرض تم صرف بچے نہیں ہو تم احمدی بچے ہو۔تم اس بات کو یاد رکھو۔اگر میں یہ بات تمہیں سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ آج میرے یہاں آنے کا مقصد پورا ہو گیا۔جب میں یہ کہتا ہوں کہ تم صرف بچے نہیں تو میرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بچے تو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں لیکن تم جانور کے بچے نہیں ہو۔تم انسان کے بچے ہو۔پھر انسان انسان کے بچوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔مثلاً ایک شخص دہر یہ ہے اور خدا کو نہیں مانتا تم دہریے کے بچے بھی نہیں ہو۔تم احمدی بچے ہو تمہارا نام اطفال الاحمدیہ ہے۔پس تم اپنے اس مقام کو یاد رکھو کہ تم اس جماعت کے نو نہال ہو جس نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے اس لئے جو کام ایک احمدی بچے کو کرنا چاہیئے وہ تم نے کرنا ہے۔جو کلمہ خیر ایک احمدی بچے کو بولنا چاہیئے وہ تمہاری زبان سے نکلنا چاہیئے۔اور جو بات ایک احمدی بچے کو سوچنی چاہیئے وہ تمہیں سوچنی چاہیئے۔پس جب میں کہتا ہوں کہ تم احمدی بیچے ہو تو تمہارا عمل، تمہاری گفتگو اور تمہاری سوچ احمدیت کی تعلیم کے مطابق ہونی چاہیئے۔تمہارا کام کرنا۔بولنا اور سوچنا قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہونا چاہیئے۔قرآن کریم ایک بڑی عظیم کتاب ہے یقیناً بہت ہی عظیم ہے۔تمہارے دماغوں میں تو بوجہ بچپن اس کی عظمت آ نہیں سکتی وہ تو اتنی عظیم کتاب ہے کہ اس کی عظمت کا ہمارے دماغ بھی احاطہ نہیں کر سکتے۔قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے کہ اس کے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا:-