مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 478

مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۸ء 478 تنزيل من رب العلمين (الواقعه (۸۱) قیامت تک کے مسائل کو حل کرنے کے علوم اس کے اندر موجود ہیں۔پس جن مسائل کا ہمیں پتہ ہی نہیں اور دوسوسال کے بعد جو مسئلہ لوگوں کے سامنے آئے گا اس کا حل تو اگر چہ موجود ہے لیکن وہ مسئلہ اور اس کا حل ہمارے ذہن میں اس وقت نہیں آسکتا لیکن یہ وہ زمانہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالی سے علم پا کر قرآن کریم کی ایسی تفسیر بیان فرمائی ہے جس میں قرآن کریم کے ذریعہ مسائل کو حل کرنے کی تفصیلی رہنمائی یا اجمالی اشارے موجود ہیں۔ویسے قرآنی علوم کا انکشاف ہر زمانہ میں آہستہ آہستہ ہوتا رہا ہے۔جس طرح تم نے اپنی ماں کی گود میں سے نکل کر پہلے گھٹنوں کے بل چلنا شروع کیا۔پھر تم نے قدم چلنا شروع کیا، پھر تم نے اپنے صحن کے اندر کر کڑے مارے پھر تمہیں سکول میں داخل کر دیا گیا۔پھر تم سات سال کی عمر میں اطفال الاحمدیہ کی تنظیم میں شامل ہو گئے اور آج تم میرے سامنے بیٹھے ہو۔یہ ایک حرکت ہے جو ترقی پر دلالت کرتی ہے۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ ہر دن جو چڑھتا ہے اس سے گو یا تمہاری زندگی کا ایک دن بڑھ گیا اور تمہاری عمر کا ایک دن کم ہو گیا۔اگر تم میں سے فرض کریں کسی کی عمر سو سال ہے تو ہر آنے والا کل بظاہر اس کی زندگی کو بڑھارہا ہوتا ہے لیکن فی الحقیقت آج کی نسبت اس کی عمر کا ایک دن کم ہورہا ہوتا ہے۔پس وقت گزر رہا ہے کام بہت سے کرنے والے ہیں اس لئے اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم کھیل نہیں یا ہنسو نہیں۔اسلام کہتا ہے کھیلنے اور ہنسنے کے وقت خوب کھیلوا اور ہنسو۔دو طرح سے لوگ ہنستے ہیں۔ایک یہ کہ مثلا گاؤں میں بچے ایک دوسرے کو گالی دے کر ہنستے ہیں۔یہ تو ہنسنے کی بات نہیں۔بداخلاقی کا مظاہرہ کر کے خود ہی ہنستے چلے جانا یہ تو ٹھیک نہیں۔یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی کہے میں تو اتنا برا ہوں۔میں کسی کو گالی دیتا ہوں اور خود ہی قہقہہ مار کر ہنس پڑتا ہوں۔یہ تو جنون کی کیفیت ہے یا جہالت کی کیفیت ہے۔اسلام کہتا ہے تم ہنسو لیکن ہنسنے کی جگہ ہنسو۔ہم پر خدا تعالیٰ کے بڑے احسان ہیں جب ہم خدا تعالیٰ کا پیار دیکھتے ہیں تو ہمارے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔جیسے خوبصورت پھول کو دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ نشان دیکھ کر کہ وہ ہمیں کھانے کو دیتا ہے ہم اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور مسکراتے ہوئے کھاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں کھانا ہضم کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ہمارا جسم مضبوط ہو جاتا ہے۔ہمارے دماغ مضبوط ہو جاتے ہیں۔پھر ہم علم کے میدان میں بڑے بڑے لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔گو بحیثیت مجموعی ہماری قوم دنیا کی دوسری ترقی یافتہ اقوام کا علم کے میدان میں کما حقہ مقابلہ نہیں کر سکتی۔لیکن جماعت احمدیہ سے باہر بھی اور جماعت احمدیہ میں بھی حالانکہ تعداد میں تھوڑی سی جماعت ہے بہت سے ایسے بچے ہوتے ہیں جو ذہین ہوتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے ایسے بچوں پر بھی اور ہم پر بھی کہ انہیں اتنی عقل دی اور علم دیا اور ان کو یہ توفیق عطا کی کہ وہ اپنے علم سے فائدہ اٹھائیں اور وقت ضائع نہ کریں۔لیکن کھیلنا بھی ضروری ہے