مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 414 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 414

414 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد دوم دو (بحوالہ ماہنامہ خالد دسمبر ۱۹۷۳ء) مجلس خدام الاحمدیہ کی زندگی قیامت تک ممتد ہے محترم چوہدری حمید اللہ صاحب کے صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے عہدہ سے سبکدوش ہونے پر حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ( یکم دسمبر ۱۹۷۳ء) حضور نے فرمایا: آج کی تقریب کے دو پہلو ہیں۔ایک کا تعلق جانے کے ساتھ ہے اور ایک کا تعلق آنے کے ساتھ ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے ایک صدر تو کامیاب صدارت کے بعد اس کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں میں مشغول ہورہے ہیں اور ایک نوجوان ان کی جگہ صدارت کی ذمہ واریاں اُٹھا رہے ہیں۔جانے والے کے متعلق تو دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسن جزاء دے اور آنے والے کے متعلق یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین اور مقبول خدمت کی توفیق عطا کرے۔مجلس خدام الاحمدیہ مختلف ادوار میں سے گزر کر اس مقام تک پہنچی ہے جہاں دنیا اسے آج دیکھ رہی ہے۔ابتداءاس کی ایک چھوٹے سے بیج کی مانند تھی اور اس وقت ایک صحت مند بھر پور جوانی والے خوبصورت درخت کی شکل یہ پیج اختیار کر گیا ہے۔ہر صدارت نے اپنی صدارت کے زمانہ میں دو کام کئے۔کسی نے بہت ہی اچھے طریقہ پر اور کسی نے درمیانے طریقہ پر اور کسی نے اپنا وقت گزارا بعض پہلوؤں کے لحاظ سے۔بہر حال دو کام کئے ہر صدارت نے۔ایک جو روایات بن چکی تھیں ان کو قائم رکھنے کی سعی اور دوسرے جو ضروریات پیدا ہو چکی تھیں ان سے نپٹنے کے لئے کوشش۔ایک زندہ وجود کو یہی دو کام کرنے پڑتے ہیں۔درخت کی شاخیں تنے سے ابتداء سے ہی نکل آتی ہیں۔مختلف درختوں کی عمروں کے لحاظ سے اپنی عمر کے مختلف اوقات میں درمیان کا تنا جو ہے وہ اپنی شاخیں نکالتا ہے۔پھر شاخ خود تنے کی طرح اُس تنے سے بھی